فرمانِ حق تعالیٰ ہے:’’شیطان تمہیں مفلسی کا خوف دلا کر بُرائی پر اُکساتاہے‘‘-
جس نے شیطان سے رشتہ جوڑا اور اُس کی پیروی اختیار کی وہ مراتب ِدنیا پر پہنچا، پسندیدۂ دنیا ہوا اور دنیا ہی میں غرق ہوگیا- اُن نو(9) حصہ ارواح کے سوا ایک حصہ ارواح اللہ تعالیٰ کے رو برو کھڑی رہیں- اللہ تعالیٰ نے اُنہیں لطف و کرم سے فرمایا:
’’ اے روحو! جو کچھ مانگنا چاہو مجھ سے مانگ لو تا کہ مَیں تمہیں عطا کردوں‘‘-اُنہوں نے عرض کی :’’خدا وندا! ہم تجھ سے تجھی کو مانگتے ہیں ‘‘-
اِس پر اللہ تعالیٰ نے دائیں ہاتھ پر اُن کے سامنے حور و قصورِ بہشت، لذاتِ نعمائے بہشت اور زیب و زیبائش ِبہشت کی ارواح کو پیش کیا تو اُس ایک حصہ ارواح میں سے نو (9) حصہ ارواح بہشت کی طرف چل دیں- سب سے پہلے جو ارواح بہشت میں داخل ہوئیں وہ متقی و پرہیز گار لوگوں کی ارواح تھیں، وہاں اُنہوں نے بلند و سریلی آواز سے زہد و تقویٰ کا نعرہ لگایا جسے سن کر جملہ متقی و پرہیز گار روحیں بہشت میں داخل ہوگئیں اور شریعت ِمحمدی (ﷺ) پر استحکام حاصل کیا- چنانچہ یہ عالم فاضل متقی و پرہیز گار لوگوں کی ارواح تھیں- باقی ایک حصہ ارواح اللہ تعالیٰ کے روبرو ایستادہ رہیں، اُن کے کانوں تک آوازِ دنیا پہنچی نہ آوازِ عقبیٰ کہ وہ فنا فی نورِ اللہ بقا باللہ ہو کرحضور ی ٔحق میں غرق تھیں- یہ مجلس ِمحمدی (ﷺ)کی حضوری والے اہل ِ حضور عارف باللہ فقراء کی ارواح تھیں جن کے حق میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے:
’’ فقر میرا فخر ہے کہ فقر میرے اندر کا نور ہے- دنیا اہل ِعقبیٰ پر حرام ہے ، عقبیٰ اہل ِدنیا پر حرام ہے اور دنیا و عقبیٰ دونوںطالب ِمولیٰ پر حرام ہیں، جسے مولیٰ مل گیا وہ مالک ِکل ہوگیا ‘‘ -
اختتام پذیر ہوا شمس العارفین کا اُردو ترجمہ
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنْ
وَسَلٰمٌ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَاَصْحٰبِہٖ وَاَھْلِ بَیْتِہٖ اَجْمَعِیْنَ o