شکر کا معنی و مفہوم:
شکر کا لغوی معنی ظاہر ہونا کے ہیں- اس سے مراد کسی کے احسان و انعام کے باعث اس کی تعریف کرنا ہے- نعمت کا اظہار کرنا بھی شکر کہلاتا ہے- [1]
جبکہ شکر کا اصطلاحی معنی اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، کرم، ربوبیت، رزاقی اور دیگر احسانات کے بدلے میں دل سے اٹھنے والی کیفیت و جذبہ ہے- تفسیر صراط الجنان کے مطابق کسی کے اِحسان و نعمت کی وجہ سے زبان، دل یا اَعضاء کے ساتھ اس کی تعظیم کرنا، شکر کہلاتا ہے- [2]
قرآن مجید میں شکر کا بیان:
شکر کرنا عبادت ہے اور قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’فَاذْکُرُوْنِيْٓ اَذْ کُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِيْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ‘‘[3]
’’سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کرو‘‘-
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مخاطب کر کے شکر کرنے کا حکم فرمایا- ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’یٰٓاَیُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰـکُمْ وَ اشْکُرُوْا لِلهِ اِنْ کُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ‘‘[4]
’’اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں عطا کی ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم صرف اسی کی بندگی بجا لاتے ہو‘‘-
شکر ادا کرنا انسان کو رحمٰن سے قریب تر کرتا ہے اور بندے کو اپنے خالق حقیقی سے جوڑے رکھتا ہے-جبکہ ناشکرا پن انسان کو کذب و بخل اور تکفیر کی جانب لے جاتا ہے- فرمانِ الٰہی ہے:
’’مَا یَفْعَلُ اللهُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ط وَکَانَ اللهُ شَاکِرًا عَلِيْمًا‘‘[5]
’’اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ، اور اللہ (ہر حق کا) قدرشناس ہے (ہر عمل کا) خوب جاننے والا ہے‘‘-
شکر ایسا فلسفہ ہے جو عبد کو معبود کی عبادت کرنے اور عبدیت کی عین ترجمانی سمجھاتا ہے- تعلق باللہ مضبوط ہوتا ہے، عبدیت و محبت کا رشتہ مضبوط تر ہوتا ہے- جب بندہ شکر ادا کرتا ہے تو تب اللہ تعالیٰ اس پر اپنے انعام و اکرام کا اضافہ فرما دیتا ہے- ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ‘‘[6]
’’اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے آگاہ فرمایا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں) ضرور اضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب یقینا سخت ہے‘‘-
احادیث مبارکہ میں شکر کا بیان:
حضور رسالت مآب (ﷺ) کی حیات طیبہ سراپا صبر و شکر کا مظہر اور منبع ہے- آپ (ﷺ)نے ہر حال میں اللہ پاک کا شکر ادا فرمایا اور امت کو بھی بارہا یہ تاکید فرمائی- حدیث پاک میں ہے:
’’حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بات سے(بھی) راضی ہوتا ہے کہ بندہ کھانا کھا کر اس کا شکر ادا کرے یا پانی پی کر اس کا شکر ادا کرے‘‘-[7]
اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت معاشرتی اسلوب میں ڈھلنے اور لوگوں میں مل جل کر رہنے والی بنائی ہے-معاشرے میں ایک دوسرے سے بھائی چارگی، ایثار، احسان، امداد معاشرے میں امن و استحکام، خوشحالی اور برکت لاتی ہے جبکہ لوگوں میں آپسی محبت، ربط اور اتحاد کو قائم کرتی ہے- اگر کوئی شخص کسی پر کوئی احسان کرے یا اس کی امداد کرے تو لازم ہے کہ اس کا شکریہ ادا کیا جائے- حدیث پاک میں واضح طور پر آیا ہے کہ:
’’حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم (ﷺ)نے فرمایا: جو شخص لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا گویا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا‘‘-[8]
ایک اور روایت میں ہے کہ :
’’حضرت جابر بن عبد اللہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جس کو کوئی چیز دی جائے تو اگر اس میں طاقت ہو تو اس کا بدلہ دے اور اگر استطاعت نہ ہو تو اس (چیز دینے والے) کی تعریف کرے- پس جس نے اس کی تعریف کی اس نے شکریہ ادا کیا اور جس نے اسے (اس کی عطا کو) چھپایا اس نے ناشکری کی‘‘-[9]
تعلیماتِ باھو میں بیانِ شکر:
شکر گزاری اللہ پاک کے نیک اور صالح بندوں کا شیوہ رہا ہے- اہل اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کی زبانیں اللہ کے شکر سے تر رہتی ہیں اور وہ شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں- امام قشیریؒ فرماتے ہیں:
’’مروی ہے کہ شاکر وہ ہے جو کسی عطیہ پر شکر کرے اور شکور (بہت زیادہ شکر گزار)، وہ ہے جو نہ ملنے پر بھی شکر کرے‘‘-[10]
زیرِ مطالعہ مقالہ میں سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کی تعلیمات میں موجود شکر کے بیان پر ایک جائزہ پیش کیا گیا ہے- تاکہ قارئین تک اولیاء اللہ کی تعلیمات کے موضوعات کو واضح کیا جائے اور اولیاء اللہ کی تعلیمات میں قرآن و احادیث اور تفسیر و منقولات کی اہمیت کو بھی سمجھا جا سکے-
حضرت سلطان باھوؒ شکر کی تعریف اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ:
’’تُو شکر کو کیا سمجھتا ہے؟ شکر اُس عطا و بخشش پر عاجزی و نیاز مندی کا رویہ اختیار کرنے کا نام ہے‘‘-[11]
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں شکر ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور اہلِ ذکر اور اہلِ صبر کی تعریف فرمائی ہے- حضرت سلطان باھوؒ انہی آیات مبارکہ کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں کہ اللہ پاک کی سب سے بڑی عطا دولتِ فقر ہے- فقر اللہ کا نور ہے جس کے عطا پر فقیر پر آزمائشیں اور رحمتیں دونوں آتی ہیں- جو دنیا کو ٹھکرا کر فقر پر صبر و شکر کرے وہ ہی کامیاب ہے- آپ بیان فرماتے ہیں کہ :
’’فرمانِ حق تعالیٰ ہے: (1) بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے-(2) اے آلِ داؤد، شکر گزاری کرو ، بندے بہت کم ہی شکر گزار ہوتے ہیں- پس غور کر کہ فقر پر صبر شکر کوئی نہیں کرتا سوائے ذاکرِ حقیقی اور صابرِ تحقیقی کے- دنیا اور دنیا کی کوئی نعمت بھی حقیقت میں نعمت نہیں ہے کہ قیامت کے دن یہ سب نعمتیں کڑوی محسوس ہوں گی‘‘-[12]
فلسفۂ شکر دیدارِ مصطفےٰ (ﷺ) سے بھی پیوستہ ہے- جس خوش نصیب کو اللہ پاک اپنے محبوب پاک (ﷺ) کا دیدار عطا فرمائے اور پھر وہ اس حضوری سے مشرف ہونے کا شکر بجا لائے تو پھر اس کا نفس پاک، دل بیدار اور روح ذاکر بن جاتی ہے- اسی بابت آپؒ نے فرمایا:
’’جس شخص کو حضور نبی کریم (ﷺ) کی زیارت نصیب ہو جائے، اس کا اعتقاد درست رہے اور وہ حضوری سے مشرف ہونے کا شکر بجا لائے تو اُس کا نفس پاک اور دل زندہ ہوجاتا ہے اور اُس کی روح ذکرِ محمود میں مشغول رہتی ہے- اِس کے برعکس جو شخص حضور علیہ الصلوٰة و السلام کی زیارت سے مشرف ہوجائے لیکن اُس کا اعتقاد درست نہ ہو تو وہ مرتد و مردود ہوجاتا ہے-[13]
آپؒ نے شکر کو دین کے اہم جزو میں سے ایک قرار دیا ہے- آپؒ فرماتے ہیں:
’’شریعت حکم دیتی ہے کہ کلامِ الہٰی یعنی قرآن مجید، احادیثِ نبوی، احادیثِ قدسی، فقرِ محمدی (ﷺ)، صبر، شکر، ترک، توکل، جمعیت، غنایت اور حضور علیہ الصلوٰۃُ والسلام کی مکمل پیروی سے دین کو قوی کیا جائے‘‘- [14]
اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو جن نعمتوں اور خصوصیات سے نوازتا ہے ان میں سے ایک شکر بھی ہے- حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
’’بعض فقیروں کو حضور علیہ الصلوٰةُ والسلام اپنے ساتھ پابند کرکے دونوں جہان کو اُن کا غلام اور دنیا واہلِ دنیا کو اُن کا پابوس (قدم بوسی کرنے والا) بنا دیتے ہیں اور اُنہیں ترک و توکل، توحید، صبر و شکر، معرفت اور ذکر و فکرِ اِلہٰی بخش دیتے ہیں جس سے وہ مستغنی ہو کر ہر وقت معیتِ خدا میں غرق رہتے ہیں‘‘- [15]
اللہ کو یاد کرنا بھی شکر ادا کرنا ہے جبکہ اللہ کی یاد سے غفلت کفر ہے- آپ علیہ الرحمہ اپنی تصنیف لطیف میں حدیث قدسی بیان فرماتے ہیں :
’’حدیثِ قدسی میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے:”اے میرے بندے! جب تُو میرا ذکر کرتا ہے تو تُو میرا شکر ادا کرتا اور جب تُو میرے ذکر سے غافل ہوتا ہے تو تُو کفر کرتا ہے“-[16]
شکر اہل اللہ اور اہل جہنم میں تفریق کرتا ہے- نا شکری اہل جہنم کا شیوہ ہے، وہ دین کے بدلے دنیا قبول کرنے والے ہوتے ہیں- اہل اللہ، اہل دنیا اور اہلِ جہنم کی عقل میں تفریق بیان کرتے ہوئے حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
’’فقراء کا عقلی کمال یہ ہے کہ وہ تصورِ اسم اللہ ذات کی مدد سے وصالِ وحدانیت میں غرق ہوتے ہیں، اگر وہ شریعت میں راسخ رہیں تو صاحبِ وصال رہتے ہیں ورنہ زوال کا شکار ہو جاتے ہیں- منافقوں، کاذبوں، جاہلوں اور اہلِ دنیا ظالموں کے عقلی کمال کا پتہ اِس بات سے چلتا ہے کہ اُن کے احوال اُن کے بدخصلت مراتب کے گرد گھومتے رہتے ہیں- اہلِ جہنم کافروں کی عقل کا کمال یہ ہے کہ وہ آخرت میں بہشت و دیدارِ پروردگار پر اعتبار نہیں کرتے اور نہ ہی وہ شکر بجا لاتے ہیں بلکہ دین کے بدلے دنیا کو قبول کر لیتے ہیں- فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ”شکر بجا لاؤ اور ناشکری مت کرو“-[17]
آپؒ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:”حالتِ فقر میں صابر فقیر کی ادا کی ہوئی دو رکعات اللہ تعالیٰ کو حالتِ غنأ میں غنی کی ادا کی ہوئی ستر رکعات سے زیادہ پسند ہیں اور شکر گزار غنی کی دورکعات اللہ تعالیٰ کو دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہیں“-[18]
اللہ کا شکر ادا کرنا مومن کا وصف ہے- وہ اپنے رازق کا مشکور رہتا ہے اور اپنے نفس کا منصف ہوتا ہے- آپؒ فرماتے ہیں:
’’مومن کی روح بھی مومن، دل بھی مومن، نفس بھی مومن اور عقل بھی مومن ہے- اُس کا علم اُسے اِسلام، امانِ الٰہی اور معرفتِ اِلَّا اللهُ کی طرف لے جاتا ہے- وہ جو رزق بھی کھاتا ہے اللہ کا شکر بجا لاتا ہے اور اپنے نفس سے اِنصاف کرتا ہے‘‘-[19]
جنہیں اللہ پاک اپنے معرفت عطا فرما دیتا ہے وہ شکر کرنے والے بن جاتے ہیں- حضرت سلطان باھوؒ نے اس طرح عارفین کی تعریف بیان فرمائی ہے:
’’جان لے کہ عارفوں کا نفس سیری کے وقت اللہ تعالیٰ کی ثنا خوانی اور اُس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتا رہتا ہے- بھوک و فاقہ کے وقت صبر اور ذکر فکر کے ساتھ غنی و بے نیاز رہتا ہے- مجلسِ نبی اللہ (ﷺ) کی حضوری میں اللہ تعالیٰ کے نور کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے اور معرفتِ الٰہی کے استغراق میں اِس طرح باجمعیت رہتا ہے جس طرح کہ مچھلی کو پانی میں جمعیت وآرام وقرار حاصل رہتا ہے- سخاوت کے وقت عارفوں کا نفس خَلقِ خدا کیلئے کرامت و عظمت و شفقت سے کریم ہوتا ہے- شہوت کے وقت باشعور، فنافی اللہ صاحبِ حضور اور اللہ تعالیٰ کی نظر میں منظور ہوتا ہے اور باحیا ہو کر لذاتِ جسمانی، خواہشاتِ نفسانی اور خود پرستی سے فارغ ہوتا ہے کیونکہ عارفانِ حق اپنے نفس کو خوفِ خدا کے باعث خواہشات سے دور رکھتے ہیں‘‘-[20]
حضرت سلطان باھوؒ اپنے بارے میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ باھُو کو اُس کی یاری نصیب ہے اور اُسے ابتدا سے انتہا تک رازِحق حاصل ہے‘‘-[21]
حرفِ آخر:
شکر بجا لانا مومن کی نشانی اور اہل اللہ کا طریق ہے- شکر ادا کرنے کے مختلف انداز اور طریقے ہیں- ایک آسان طریقہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے یوں بیان فرمایا ہے:
’’دو باتیں ایسی ہیں کہ جس میں وہ پائی جائیں اللہ تعالیٰ اسے صابر و شاکر لکھتا ہے اور جس میں یہ دونوں خصلتیں نہ ہوں اسے اللہ تعالیٰ صابر و شاکر نہیں لکھے گا (وہ دو خصلتیں یہ ہیں ) جو شخص دینی معاملات میں اپنے سے اوپر والے کی طرف دیکھے اور اس کی پیروی کرے اور دنیاوی امور میں اپنے سے نیچے والے کی طرف دیکھے اور اللہ تعالیٰ کا اس بات پر شکر ادا کرے کہ اسے اس پر فضیلت دی، اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کو صابر و شاکر لکھتا ہے‘‘-[22]
اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے- آمین!
٭٭٭
[1]خزائن العرفان،زیرِ آیت الاعراف:10
[2]تفسیر صراط الجنان، زیر آیت الفاتحہ: 1
[3]البقرۃ: 152
[4]البقرۃ: 172
[5]النساء : 147
[6]إبراهیم: 7
[7]صحیح مسلم، باب: استحباب حمد الله تعالٰی بعد الأکل والشرب
[8]سنن ترمذی، کتاب: البر والصلۃ
[9]سنن ابی داؤد، باب:فی شکرالمعروف
[10]رسالہ قشریہ، ص : 175
[11]محک الفقر، ص:329
[12]عین الفقر، ص:167
[13]کلید التوحید، ص: 123
[14]محک الفقر، ص:153
[15]محک الفقر، ص: 223
[16]محک الفقر، ص:769
[17]محک الفقر، ص:659
[18]کلید التوحید کلاں، ص:619
[19]محک الفقر، ص:625
[20]مجالسۃ النبی (ﷺ)، ص: 25
[21]محک الفقر، ص:405
[22]سنن ترمذی، کتاب : صفۃ القیامۃ و الرقائق و الورع