ابتدائیہ:
ہم ایک ایسےجہان میں رہتے ہیں جہاں تمام انسان ایک دوسرے سے باہمی طور پر جُڑے ہوئے ہیں- اسی طرح، ایک فرد یا قوم کا مسئلہ دوسرے کے لیے بھی باعثِ تشویش بن جاتا ہے- انسان بنیادی طور پر ایک علم پسند مخلوق ہے اور علم کی بدولت ہی اس نے بے شمار ترقی حاصل کی ہے- آج ہم ایک ایسی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ہر طرح کی سہولیات دستیاب ہیں، سفر کے طویل اوقات منٹوں میں سمٹ چکے ہیں اور پوری کائنات کی معلومات محض ایک کلک کی دوری پر ہیں- یہاں تک کہ انسان چاند سے آگے نکل چکا ہے ، اور یہ سب انسانی علم اور تحقیق کے باعث ممکن ہوا ہے-
سائنسی ترقیات اور ٹیکنالوجی کی بدولت جہاں بے شمار سہولیات میسر آئی ہیں، وہیں مختلف چیلنجز بھی درپیش ہیں- ان چیلنجز میں سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ ماحولیاتی تبدیلی ہے، جو پوری دنیا کی فلاح و بہبود کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے- اس بڑھتے ہوئے عالمی مسئلے کے پیش نظر، عالمی رہنماؤں نے ماحول دوست دنیا کے قیام کے لیے پیرس معاہدہ تشکیل دیا، جس کا مقصد ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا تھا-
تاہم، یہ معاہدہ بھی کئی مشکلات کا شکار ہے، خاص طور پر اس وقت جب امریکہ نے اس معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا - بعض عالمی طاقتیں اپنی عیش و عشرت پر سمجھوتہ کیے بغیر ماحولیاتی بحران کا بوجھ ترقی پذیر ممالک پر ڈالنے کی خواہاں نظر آتی ہیں- نتیجتاً، ترقی پذیر ممالک ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس اس بحران سے نمٹنے کے لیے درکار وسائل کی شدید کمی ہے- یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی ماحولیاتی تحفظ کے لیے تمام اقوام کو مشترکہ اور مساوی ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ایک پائیدار اور محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے-
پیرس ماحولیاتی معاہدہ:
پیرس معاہدہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق ایک قانونی طور پر پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے، جو 12 دسمبر 2015ءکو پیرس میں ہونے والی ’’سی او پی 21‘‘کانفرنس میں اقوام متحدہ کے 196ممالک نے منظور کیااور یہ 4 نومبر2016ء کو نافذ العمل ہوا-اس معاہدے کا بنیادی مقصد عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو صنعتی انقلاب سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنا اور ممکنہ حد تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنا ہے- حالیہ برسوں میں عالمی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اکیسویں صدی کے اختتام تک درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنے کی اشد ضرورت ہے- کیونکہ اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل برائے ماحولیاتی تبدیلی کے مطابق اس حد سے تجاوز کرنے کی صورت میں شدید موسمی اثرات جیسے خشک سالی، شدید گرمی کی لہریں اور غیر معمولی بارشوں میں اضافہ ہوسکتا ہے- اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو 2025ء سے پہلے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد 2030ءتک 43 فیصد تک کم کرنا ضروری ہوگا- پیرس معاہدہ ، ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف کثیرالجہتی تعاون کی ایک تاریخی پیش رفت ہے، کیونکہ یہ پہلی بار تمام ممالک کو ایک مشترکہ قانونی فریم ورک کے تحت ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے اور ان کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے یکجا کرتا ہے -[1]
ماحولیاتی تبدیلی: ایک سنگین عالمی مسئلہ
ماحولیاتی تبدیلی کا مطلب زمین کے درجہ حرارت اور موسم میں ایک طویل عرصے تک آنے والی تبدیلی ہے- اس تبدیلی کی وجہ سے پہلے جو موسم کئی برسوں تک ایک جیسے رہتے تھے، اب ان میں غیر معمولی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں- گرمی زیادہ ہو رہی ہے، سردیاں کم ہو رہی ہیں، بارشوں کا نظام بدل رہا ہے اور کہیں بہت زیادہ بارش ہو رہی ہے تو کہیں خشک سالی ہے- یہ تمام تبدیلیاں زمین کے قدرتی توازن کو متاثر کر رہی ہیں اور انسانو ں، جانوروں اور پودوں کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں-
ماحولیاتی تبدیلی زمین کے درجہ حرارت اور موسم میں طویل مدتی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے، جس کے باعث گزشتہ 100 سالوں میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے- 2015ء سے 2024ء کے دوران، عالمی درجہ حرارت 19 ویں صدی کے اواخر کے مقابلے میں 1.28 ڈگری زیادہ رہا، جبکہ 2024ء تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہوا، جس میں درجہ حرارت پہلی بار 1.5 ڈگری سے تجاوز کر گیا- فوسل فیولز کے استعمال سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسز اس اضافے کی بنیادی وجہ ہیں، جن کی بدولت صنعتی انقلاب کے بعد فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں 50 فیصد اضافہ ہو چکا ہے- ہیٹ ویوز، شدید بارشیں، گلیشیئرز کا پگھلنا اور سمندری سطح میں اضافہ جیسے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں، جبکہ 2024ء میں سمندری طوفان ہیلن اور ملٹن کے باعث 200 سے زائد افراد ہلاک اور ہر طوفان کا تخمینہ نقصان 50 بلین ڈالر تک رہا- 2022ء میں مشرقی افریقہ میں 40 سال کی بدترین خشک سالی سے 20 ملین افراد قحط کے خطرے سے دوچار ہوئے، جبکہ ایسی مزید خشک سالی کا امکان 100 گنا بڑھ چکا ہے- اقوام متحدہ کے مطابق، دنیا میں 3.3 سے 3.6 بلین افراد ماحولیاتی خطرات سے متاثر ہو رہے ہیں اور اگر درجہ حرارت 2 ڈگری تک بڑھ گیا تو 10 ملین افراد سیلاب اور دیگر آفات کا شکار ہو سکتے ہیں، جبکہ مرجان کی چٹانوں کا 99 فیصد خاتمہ ہو سکتا ہے- 2050ء تک مزید کئی سو ملین افراد غربت اور ماحولیاتی خطرات کا سامنا کریں گے، جو عالمی اقتصادی اور سماجی عدم استحکام میں اضافے کا باعث بنے گا -[2]
COP-29 میں ہونے والے ما حولیاتی مذاکرات :
ماحولیاتی کانفرنس، جو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقد ہوئی، 33 گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد ایک معاہدے پر اختتام پذیر ہوئی، جس میں امیر ممالک نے غریب ممالک کی ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلیے سالانہ 300 بلین ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا، جو 2035 ءتک 1.3 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کی کوشش ہوگی- تاہم، ترقی پذیر ممالک نے اس رقم کو ’’ناکافی‘‘قرار دیا، کیونکہ وہ 1.3 ٹریلین ڈالر سالانہ کا مطالبہ کر رہے تھے- افریقی گروپ نے اسے کہا کہ :
’’بہت کم، بہت دیر سے ‘‘ ’’too little, too late‘‘
اقوام متحدہ کے ماحولیاتی سربراہ سائمن سٹیئل نے تسلیم کیا کہ یہ معاہدہ مکمل نہیں، مگر تعاون جاری رکھنے کی علامت ہے- شدید گرمی، سمندری طوفانوں اور ماحولیاتی آفات کے بڑھتے ہوئے اثرات کے درمیان، یہ فنڈز ترقی پذیر ممالک کو قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری اور فوسل فیول سے دور ہونے میں مدد دیں گے-تاہم،اجلاس میں امریکی انتخابات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ واپسی کے اثرات بھی زیر بحث رہے، کیونکہ وہ پیرس معاہدے سے امریکہ کے اخراج کے حامی ہیں، جس سے مالی وعدوں میں کمی کا خدشہ پیدا ہواہے -[3]
ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے اورپیرس معاہدےپر اثرات:
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں ’’امریکہ فرسٹ‘‘ کا نعرہ لگایا، جس کا مطلب تھا کہ وہ سب سے پہلے امریکہ کے مفادات کو دیکھیں گے- جب وہ صدر بنے تو انہوں نے کئی عالمی معاہدوں سے نکلنے کا فیصلہ کیا- ان معاہدوں میں پیرس ماحولیاتی معاہدہ بھی شامل تھا- ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ امریکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے وہ اسے نہیں مانیں گے- ان کے اس فیصلے پر دنیا بھر میں تنقید کی گئی، کیونکہ یہ معاہدہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بہت اہم تھا- 20 جنوری کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے، جن کے تحت امریکہ کو پیرس ماحولیاتی معاہدے اور عالمی ادارہ صحت سے الگ ہوگیا- ان فیصلوں سے ’’امریکہ فرسٹ‘‘ پالیسی کے تحت ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر کو پیرس معاہدے سے فوری دستبرداری کا حکم دیا، حالانکہ اس معاہدے کے آرٹیکل 28 کے مطابق ایک سال کا نوٹس دینا ضروری تھا- ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں بھی اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کی تھی، لیکن بائیڈن انتظامیہ نے 2021ء میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لی- یہ فیصلہ فوسل فیول کو ترجیح دینے اور عالمی ماحولیاتی اقدامات کو کمزور کرنے کی نشانی سمجھا گیا، کیونکہ امریکہ گرین ہاؤس گیسز کے بڑے اخراج کنندگان میں شامل ہے- جس کا تخمینہ 13.6 فیصد ہے-ٹرمپ نے 2020ء میں اس عمل کا آغاز کیا تھا، لیکن بائیڈن نے 2021ء میں اس فیصلے کو واپس لے لیا، کیونکہ امریکہ کو مکمل طور پر الگ ہونے کے لیے ایک سال کا نوٹس دینا اور مالی وعدے پورے کرنا لازم تھا- نئے آرڈر کے تحت امریکی فنڈنگ روک دی گئی اور امریکی عملہ واپس بلایا گیا -[4]
مالیاتی اور اقتصادی اثرات
ترقی پذیر ممالک کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے تاریخی طور پر سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسزکے اخراج میں حصہ ڈالا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی معیشت کو بغیر کسی ماحولیاتی پابندی کے صنعتی ترقی کے ذریعے مضبوط کیا- ان کا مؤقف ہے کہ چونکہ امیر ممالک نے ماحول کو آلودہ کرتے ہوئے اقتصادی ترقی حاصل کی، اس لیے اب انہیں ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کی زیادہ ذمہ داری لینی چاہیے- تاہم، حالیہ برسوں میں چین اور بھارت جیسی تیزی سے ترقی کرتی معیشتیں بھی دنیا کے سب سے بڑے موجودہ اخراج کنندگان میں شامل ہو گئی ہیں، جن کے ساتھ امریکہ بھی شامل ہے- اس صورتحال کے باعث ترقی یافتہ ممالک کا مؤقف ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو بھی اخراج میں کمی کیلیے مؤثر اقدامات کرنے اور سخت ماحولیاتی پالیسیوں پر عمل کرنا چاہیے- لیکن ترقی پذیر ممالک اس دلیل کے خلاف یہ کہتے ہیں کہ ان کا، فی کس اخراج اب بھی کم ہے اور اکثر ان کے ضروری اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے سے جڑا ہوتا ہے- [5]
عالمی سطح پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں مختلف ممالک کا حصہ درج ذیل ہے:
v چین: 30.7 فیصد
v امریکہ: 13.6 فیصد
v ہندوستان: 7.6 فیصد
v یورپی یونین: 7.4 فیصد
v روس: 4.4 فیصد
v افریقہ: 4 فیصد
یہ اعداد و شمار 2023ء کے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ چین اور امریکہ کاربن اخراج میں سرِفہرست ہیں- افریقہ، اپنی بڑی آبادی کے باوجود، عالمی کاربن اخراج میں نسبتاً کم حصہ ڈالتا ہے -[6]
ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ کو ’’loss and damage fund‘‘ سے نکال لیا، جو ایک عالمی معاہدہ تھا جس کے تحت ترقی یافتہ ممالک نے ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ غریب ممالک کی مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا- یہ فنڈ COP-28ماحولیاتی کانفرنس میں2023ء میں منظور ہوا تھا، تاکہ ان ممالک کو مالی مدد دی جا سکے جو سمندری سطح میں اضافے، خشک سالی، سیلاب اور زمین بنجر ہونے جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں- امریکہ، جو تاریخ میں سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والا ملک ہے، اس فنڈ کے لیے صرف 17.5 ملین ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ فنڈ یکم جنوری 2024ء سے فعال ہو چکا ہے- جنوری کے آخر تک27 ممالک نے مجموعی طور پر 741ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا، جو ان نقصانات کا صرف 0.2 فیصد ہے جو غریب ممالک ہر سال ماحولیاتی تبدیلی کے باعث جھیل رہے ہیں-
امریکہ کے پیرس ماحولیاتی معاہدے سے نکلنے سے دنیا میں امریکی وعدوں پر اعتماد کم ہوتا نظر آتاہے- جس کی وجہ سے اگلے 7 برسوں میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے 7.9 فیصد کم ہو گئے- یورپی یونین اور چین سمیت کئی ممالک نے معاہدے کی حمایت جاری رکھی، جبکہ کچھ ممالک نے اس فیصلے کو اختلافی قرار دیا - اس فیصلے سے عالمی معاہدوں کا استحکام کمزور ہوا اور ماحولیاتی سفارت کاری میں امریکہ کا اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے -[7]
ماحولیاتی چیلنجز اور پاکستان :
امریکہ کا پیرس معاہدے سے دستبردار ہونا عالمی ماحولیاتی کارروائی کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا، جس کے اثرات خاص طور پر موسمیاتی طور پر حساس ممالک، جیسے کہ پاکستان، پر پڑنے کے خدشات قوی ہیں -پاکستان، جو تیسرے قطب (ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے گلیشیئرز پر مشتمل علاقہ) کا حصہ ہے، موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے- آرکٹک[8] میں بڑھتی ہوئی گرمی، جو باقی دنیا کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے، پاکستان کے موسم پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے، جس کے نتیجے میں گرمی کی شدید لہریں، سیلاب اور خشک سالی میں اضافہ ہو رہا ہے- پاکستان میں 7 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جن کے پگھلنے سے 3ہزار سے زائد گلیشیائی جھیلیں بن چکی ہیں، جو اچانک سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں-2022ءمیں شدید بارشوں کے نتیجے میں ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا، جس سے 1700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے- امریکہ جیسے بڑے اخراج کنندگان کی جانب سے پیرس معاہدے کی خلاف ورزی، کاربن کے اخراج میں کمی کے عالمی عزم کو نقصان پہنچاتی ہے اور دیگر ممالک کے لیے بھی ذمہ داریوں میں تاخیر کا جواز فراہم کرتی ہے- پاکستان کا کلائمیٹ رسک انڈیکس پر اسکور 87.83 ہے ، جو اسے موسمیاتی خطرات کے لحاظ سے حساس ممالک میں شامل کرتا ہے- 2023ء کی sustainable development report کے مطابق، پاکستان کا اسکور 58.97 ہے، اور وہ 128 ممالک میں 128 ویں نمبر پر ہے- امریکہ کی جانب سے پیرس معاہدے سے دستبرداری نے نہ صرف ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی امداد اور تکنیکی معاونت کی امیدوں کو کمزور کیا بلکہ ماحولیاتی بحران کے خلاف اجتماعی عالمی اقدامات کی ساکھ کو بھی متاثر کیا-تاہم ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو اپنی موسمیاتی پالیسیاں بہتر بنانے، بین الاقوامی سطح پر مالیاتی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے اور کاربن اخراج میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ پائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول ممکن ہو سکے -[9]
اسلام آباد میں 6 اور 7 فروری 2025ء کو جناح کنونشن سینٹر میں دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے آگاہی بڑھانا، عملی اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا اور ایک ماحولیاتی لحاظ سے مستحکم معاشرے کی بنیاد رکھنا تھا- اس کانفرنس کا انعقاد ڈان میڈیا کے 'بریتھ پاکستان' (Breathe Pakistan)اقدام کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے حل پر تعاون کو فروغ دینا اور اس کے مقابلے کے لیے مالی وسائل کو متحرک کرنا ہے-پاکستان کو 2030 تک ماحولیاتی لحاظ سے مستحکم بننے کیلئے تقریباً 380 بلین ڈالر درکار ہیں، لیکن بین الاقوامی مالی معاونت کی کمی نے ان کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ہے- کانفرنس میں تقریباً 100 ماہرین نے شرکت کی، جنہوں نے ماحولیاتی مالیات، ماحولیاتی انصاف، مطابقت، پائیدار حکمرانی، اور خاص طور پر جنوبی ایشیا میں ماحولیاتی عمل جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا -[10]
پیرس معاہدہ اور امریکی مؤقف:
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ پیرس معاہدے کی شرائط امریکہ پر سخت توانائی کی پابندیاں عائد کر دیں گی، جس سے لاکھوں ملازمتوں کے ختم ہونے کا خدشہ ہے، خصوصاً مینوفیکچرنگ اور توانائی کے شعبوں میں- انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ چین اور بھارت جیسے ممالک کو زیادہ فائدہ دیتا ہے، کیونکہ انہیں کاربن اخراج میں اضافے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ امریکہ کو سخت شرائط کا سامنا ہے- ایک اور اہم اعتراض خودمختاری سے متعلق تھا، کیونکہ ٹرمپ حکومت کو خدشہ تھا کہ اس معاہدے کے تحت امریکہ قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے اور وہ اپنی ماحولیاتی پالیسی بنانے میں آزاد نہیں رہے گا- اس کے علاوہ، گرین کلائمیٹ فنڈ (Green Climate Fund)میں مالی شراکت پر بھی تنقید کی گئی، جہاں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کو ترقی پذیر ممالک کی مدد کیلئے اربوں ڈالر فراہم کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، لیکن ان فنڈز کے مؤثر استعمال کی کوئی ضمانت نہیں دی جا رہی-[11]
پیرس معاہدے کے فریم ورک کی ساکھ کو درپیش چیلنجز:
پیرس معاہدے کے تحت ممالک نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے اہم وعدے کیے ہیں- امریکہ کا ہدف ہے کہ 2030تک سال 2005کی سطح کے مقابلے میں50 سے 52فیصد تک کاربن اخراج میں کمی لائے، جبکہ یورپی یونین نے سال 2030تک کم از کم 55 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا ہے- اسی طرح، چین کیلیے طے شدہ ہدف9 سے 19 فیصد کے درمیان کمی کا ہے- تاہم، یہ اہداف درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کے لیے ناکافی سمجھے جا رہے ہیں-سفارتی پیش رفت کے باوجود، گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں اضافہ جاری ہے اور امریکہ کے پیرس معاہدے سے اخراج نے عالمی اعتماد کو کمزور کر دیا ہے- اس سے ماحولیاتی معاہدے کے نفاذ، مالی استحکام اور عالمی موسمیاتی پالیسیوں کی تاثیر پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں- 2023ء میں ہونے والی پہلی عالمی اسٹاک ٹیک نے واضح کیا کہ دنیا ابھی تک پیرس معاہدے کے اہداف کو پورا کرنے کی راہ پر نہیں ہے- مزید برآں، جب امریکہ جیسے بڑے اخراج کنندگان اپنے وعدے پورے کیے بغیر معاہدے سے علیحدہ ہوتے ہیں، تو یہ نہ صرف معاہدے کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ دیگر ممالک کو بھی اپنی ذمہ داریوں میں تاخیر کرنے کا جواز فراہم کرتا ہے- ایسے اقدامات ماحولیاتی پالیسیوں کی طویل مدتی کامیابی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں اور عالمی آب و ہوا کی بہتری کے لیے کی جانے والی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں -[12]
اختتامیہ :
امریکہ کا پیرس معاہدے سے اخراج عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں اور اعتماد کو کمزور کر دیتا ہے- ترقی پذیر ممالک جو امیر ممالک کی مدد اور ماحولیاتی مالی معاونت پر انحصار کرتے ہیں، انہیں اب فنڈنگ کی کمی کا سامنا ہے جس سے وہ اپنے تحفظ اور تبدیلی کے اقدامات پر عمل درآمد میں پیچھے رہ جاتے ہیں- اگرچہ کچھ ممالک اپنی قومی طور پر متعین کردہ شراکتوں (Nationally Determined Contributions) کو بہتر بنا رہے ہیں، لیکن مجموعی اخراج کا رجحان عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری تک محدود رکھنے کے لیے ناکافی ہے- 2023ء کے عالمی جائزے سے یہ ثابت ہوا کہ دنیا پیرس معاہدے کے اہداف پر پوری نہیں اتر رہی-
تاہم، امریکہ کا معاہدے سے اخراج نہ صرف پیرس معاہدے کی طویل مدتی ساکھ اور مؤثریت کو خطرے میں ڈال رہا ہے بلکہ عالمی ماحولیاتی حکمرانی کو بھی منتشر اور غیر مستحکم بنا رہا ہے- اعتماد کی بحالی اور مشترکہ کوششوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ دوبارہ معاہدے میں شامل ہو اور تمام ممالک اپنی ذمہ داریوں کو مضبوطی سے نبھائیں تاکہ تباہ کن ماحولیاتی اثرات سے بچا جا سکے-
٭٭٭
[1]United Nations Framework Convention on Climate Change. The Paris Agreement. Accessed March 10, 2025. https://unfccc.int/process-and-meetings/the-paris-agreement.
[2]BBC News. N.d. “What Is Climate Change? A Really Simple Guide.” BBC News. Accessed March 10, 2025. https://www.bbc.com/news/science-environment-24021772.
[3]Rannard, Georgina, and Esme Stallard. "Huge COP29 Climate Deal Too Little Too Late, Poorer Nations Say." BBC News, November 24, 2024. https://www.bbc.com/news/articles/cd0gx4przejo.
[4]European Parliamentary Research Service (EPRS). US Withdrawal from the Paris Climate Agreement and from the WHO. Authors: Elena Lazarou and Gabija Leclerc. PE 767.230 – February 2025. European Union, 2025. https://www.europarl.europa.eu/RegData/etudes/ATAG/2025/767230/EPRS_ATA(2025)767230_EN.pdf.
[5]Council on Foreign Relations. "The Paris Agreement on Climate Change." Accessed March 11, 2025. https://www.cfr.org/backgrounder/paris-global-climate-change-agreements.
[6]CNN. "Which Countries Are Responsible for the Most Climate Change? A COP28 Reality Check." CNN, December 2023. https://edition.cnn.com/interactive/2023/12/us/countries-climate-change-emissions-cop28/.
[7]Schmidt, Averell. "Damaged relations: How treaty withdrawal impacts international cooperation." American Journal of Political Science 69, no. 1 (2025): 223-239.
[8]آرکٹک ایک قطبی خطہ ہے جو شمالی نصف کرہ میں واقع ہے اور اس میں آرکٹک اوقیانوس، اس کے ارد گرد کے سمندری علاقے، اور کچھ شمالی ممالک کے حصے شامل ہیں، جن میں کینیڈا، گرین لینڈ (ڈنمارک)، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن، فن لینڈ، روس، اور امریکہ (الاسکا) شامل ہیں۔
[9]GlobalClimateRisks Platform. "SDGs on Thin Ice: Arctic Warming and Climate Crisis in Pakistan." Accessed March 11, 2025. https://globalclimaterisks.org/insights/sdgs-on-thin-ice-blogs/insights-pakistan/.
[10]Dawn. "Pakistan Needs $380bn to Become Climate-Resilient by 2030, Says Experts." Dawn, February 7, 2025. https://www.dawn.com/news/1889847.
[11]U.S. Department of State, "On the U.S. Withdrawal from the Paris Agreement," U.S. Department of State, November 4, 2019, https://2017-2021.state.gov/on-the-u-s-withdrawal-from-the-paris-agreement.
[12]Natural Resources Defense Council (NRDC). "Paris Climate Agreement: Everything You Need to Know Accessed March 11, 2025. https://www.nrdc.org/stories/paris-climate-agreement-everything-you-need-know#sec-whatis.