دقیانوسی تصورات اور ان کے اثرات:
'ہم' اور 'وہ' ، 'میں' اور 'اُس' کی ذہنیت دُنیا بھر میں افراد، برادریوں اور معاشروں کو تقسیم کرنے والے مسائل کی جڑ ہے- یہ سوچ عالمی اتحاد کے لئے نا صرف زہرِ قاتل ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بگاڑتے ہوئے نفرت، تعصب اور تقسیم کو جنم دیتی ہے- پیو ریسرچ سنٹر (Pew Research Center) کی 2021ء کی رپورٹ کے مطابق، دُنیا بھر میں 76 فیصد مسلمانوں کو مذہبی تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے-[1] گلوبل ٹیرارزم ڈیٹابیس (Global Terrorism Database) کی تحقیق بتاتی ہے کہ 2001 ء سے 2020 ء تک 89 فیصد دہشت گرد حملے مسلمانوں سے منسلک کئے گئے جبکہ حقیقتاً اِن میں صرف 6.0 فیصد واقعات مسلمانوں کی جانب سے تھے-[2] ایڈورڈ سعید (Edward Said) نے اپنی مشہور کتاب ’’Orientalism‘‘میں مغرب کے اِن دوہرے معیارات کے بارے بڑی تفصیلات بیان کی ہیں جِن میں انہوں نے خاص طورپر یہ وضاحت دی کہ مغرب کیسے مسلمانوں اور مشرق کو دقیانوسی تصورات کے تحت پیش کرتا ہے، جو بنیادی طور پر اسلامو فوبیا کو مزید تقویت دیتا ہے-[3] اِسی تناظر میں سٹورٹ ہال (Stuart Hall)،[4] جین باؤڈرلرڈ(Jean Baudrillard)[5] اور نوم چومسکی (Noam Chomsky)[6] نے بھی اپنی تحریروں میں بتایا کہ مغربی میڈیا حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے ، جبکہ مخصوص بیانیے اور عوامی رائے ترتیب دینے کے لئے با اختیار اور پاورفل لوگ میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہیں-
مغربی میڈیا اور اسلاموفوبیا:
اِنسائیکلوپیڈیا برٹینیکا (Encyclopedia Britannica) نے مسلمانوں اور اِسلام کے خلاف تعصب، خوف ، نفرت اور دُشمنی کو 'اِسلامو فوبیا' قرار دیا ہے-[7] 11/9 حملوں کے بعد مسلمانوں کو منظم زیادتیوں اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑا ، جس نے اسلام سے خوف اور نفرت (Islamophobia) کو جنم دیا- دی گارڈیئن (The Guardian) کی رپورٹ کے مطابق، 11/9 حملوں کے بعد امریکہ اور یورپ میں اِسلام مخالف جرائم میں 500 فیصد اضافہ ہوا [8]جبکہ یورپیئن نیٹ ورک اگینسٹ ریسزم (European Network Against Racism) کی رپورٹ کےمطابق، 2018ء سے 2021ء کے دوران یورپ میں مسلم مخالف جرائم میں 70 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا-[9] اسی طرح آکسفورڈ یونیورسٹی مائیگریشن آبزرویٹری (Oxford University’s Migration Observatory) نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ برطانیہ میں مسلمان مہاجرین کے خلاف تعصب کی شرح دیگر گروہوں کے مقابلے میں 60 فیصد زیادہ ہے-[10] مزید برآں! دیگر محققین نے بھی مسلمانوں کے خلاف ہونے والے اِن مظالم پر اپنے اپنے انداز میں آواز اُٹھائی ہے- ڈاکٹر جیک شاہین (Dr. Jack Shaheen) نے اپنی کتاب ’’Reel Bad Arabs‘‘میں واضح طور پر لکھا کہ، ہالی ووڈ میڈیا مسلمانوں کو دہشت گرد اور منفی کرداروں کے طور پر پیش کرتا ہے-[11] یاسمین جیوانی (Yasmin Jiwani) نے بھی میڈیا کی دقیانوسی عکاسی پر تحقیق کرتے ہوئے لکھا کہ میڈیا مسلمانوں کو دیگر گروہوں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک دکھاتا ہے جو کہ حقیقت سے دور ہے-[12] اِسی طرح، ایویلین السلٹینی (Evelyn Alsultany) نے ’’Arabs and Muslims in the Media‘‘ میں واضح طور پر لکھا کہ مغربی میڈیا مسلم شناخت کو اکثر غلط طریقے سے پیش کرتا ہے-[13]
عالمگیریت کے اِس جدید دور میں تقسیم کی مزید پیچیدگیاں بڑھنے کی وجہ سے مذہب اور نسل جیسے عناصر تنازعات کا شکار ہیں جن میں 'وہ' اور 'ہم' کی تقسیم خاص طور پر مسلم کمیونٹی پر منفی اثرات ڈال رہی ہے- اِس تقسیم اور نفرت کی بڑھوتری میں مغربی میڈیا بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کر رہا ہے- امریکی اور ہالی ووڈ پروڈکشنز جیسے ’’Jack Ryan Homeland اور Sleeper Cell‘‘ وغیرہ نے مسلمانوں کو دہشت گرد اور مجرم کے طور پر پیش کیا-[14] یونیورسٹی آف ساؤدھرن کیلیفورنیا (University of Southern California) نے 2021ء کی تحقیق میں لکھا کہ،2017ء سے 2019ء کے درمیان ریلیز ہونے والی 200 مقبول ترین فلموں میں صرف 1.6فیصد کردار مسلمان تھے اوران میں سے اکثر کو منفی انداز میں پیش کیا گیا-[15]
مسلمانوں کی علمی اور سماجی خدمات:
اِسلامو فوبیا ! نا صر ف اِنسانی حقوق کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ مسلمانوں کی علمی اور ثقافتی تاریخ کو بھی نظر انداز کرتا ہے- مسلم محققین، ادیبوں، فلسفیوں اور سائنسدانوں نے سائنسی و دُنیاوی علوم کی ترقی میں جو کردار ادا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے -ابن الہیثم، یعقوب الکندی ، ابن سینا ، ابو نصر فارابی، عباس بن فرناس، جابر بن حیان اور دیگر مسلم مدبرین نے اپنے علم و حکمت کے چراغ روشن کرتے ہوئے سائنس، فلسفہ، ادب، ریاضی جیسے مضامین کو سیراب کیا ،جِن کی خدمات کو ہارورڈ اور آکسفورڈ جیسی یونیورسٹیوں نے بھی تسلیم کیا -تاریخ اسلام کا اگر طائرانہ جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ یورپ میں اسلامی ورثے کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید یورپ کی بنیادیں اسلامی ورثے پر ہی رکھی گئی ہیں- مرجام شاتانوی، شیرون میکڈونلڈ اور کاتارزینا پوزون (Shatanawi, Macdonald, & Puzon) کی 2021ء کی تحقیق (Heritage, Islam, Europe: Entanglements and directions. An introduction) میں یورپ میں اسلامی ورثے کی موجودگی اور اس کے اثرات و تعلقات کا جائزہ لیا گا جو کہ جنوبی اور مشرقی یورپ میں اسلام کی طویل مدتی موجودگی کو اُجاگر کرتا ہے-[16] علاوہ ازیں! موجودہ دور میں مسلمان رہنماؤں کی عالمی سطح پر بھی بے شمار خدمات ہیں جِن کا ذِکر یہاں ضروری ہے- صحافت ہو یا سیاست، فلاحی کام ہوں یا سماجی بہبود ہر جگہ رنگ و نسل کی تمیز کئے بغیر مسلمان اپنا کردار ادا کررہے ہیں-عالمی سیاست میں صادق خان (مئیر لندن)، چوہدری محمد سرور (برطانوی پارلیمینٹیرئن)، لارڈ نذیر احمد (برطانوی ہاؤس آف لارڈز کے پہلے مسلم رُکن ممبر) اور دیگر مسلم سیاست دان موجود ہیں جو عالمی سطح پر اپنا قد کاٹھ رکھتے ہیں- اِسی طرح بے شمار ایسی فلاحی تنظیمیں بھی موجود ہیں جو علاقوں کی مناسبت سے بہت سارے فلاحی کام سر انجام دیتی ہیں جن میں کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR)، مسلم پبلک افیئرز کونسل(MPAC)، ایدھی (Edhi) فاؤنڈیشن وغیرہ شامل ہیں- یہ تنظیمیں تعلیم، صحت، قدرتی آفات میں مدد فراہم کرتے ہوئے اِنسانی حقوق اور فلاح و بہبود کیلئے کام کرتی ہیں- صحافت میں بھی بے شمار نام موجود ہیں جن میں مہدی حسن (امریکی -برطانوی صحافی)، فرید زکریا(سی این این ) ڈاکٹر لورین بوتھ (فری لانسر) و دیگر شامل ہیں- ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ، مسلمان عالمی سطح پر مختلف شعبوں میں نمایاں کام سر انجام دے رہے ہیں جو نہ صرف ان کی محنت و لگن کا ثبوت ہے بلکہ عالمی امن و بھائی چارے کے لئے امید کی ایک کرن بھی ہیں-
مسلم مخالف جرائم اور عالمی ردعمل:
مُسلم تاریخ ایسے بے شمار کارناموں اور ایجادات سے بھری پڑی ہے جنہیں سراہا جانا ضروری ہے- اِ س کے برعکس دُنیا کے بیشتر ممالک میں مُسلم مخالف اقدامات اور مُسلم کُش فسادات دیکھنے اور سُننے کو ملتے ہیں ، جیسے بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کُشی، گجرات کے مُسلم کُش فسادات، روہنگیا میں مُسلمانوں کا قتل عام، آذری مسلمانوں کا خوجالے میں جینو سائیڈ، فلسطین اور کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں مُسلمانوں کا منظم ریاستی قتل عام یونائیٹد نیشنز اور ہیومن رائیٹ کمیشنز کی نظر میں شائد کوئی خاص اہمیت کا حامل نہیں- مغربی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ نفرت،تضحیک آمیز رویے اور امتیازی سلوک برتا جاتا ہے- ہیومین رائیٹس واچ (Human Rights Watch) [17]اور امنیسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International)[18] کی رپورٹس کے مطابق، مُسلم پناہ گزینوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے- یورپئن کونسل آن ریفیوجیز اینڈ ایگزائلز (European Council on Refugees and Exiles) نے 2022 ء کی اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ مُسلم پناہ گزینوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کئے جانے کی شرح غیر مسلم درخواستوں کے مقابلے میں زیادہ تھیں-[19] علاوہ ازؔیں! یونائیٹڈ نیشنز ہیومین رائیٹس کمشنرز فار ریفیوجیز (UNHCR) نے اپنی 2023 ء کی رپورٹ میں بتایا کہ دُنیا بھر میں 65 فیصد مہاجرین مسلمان ہیں، جنہیں اکثر پابندیوں اور تعصب کا سامنا ہے، جس میں زیادہ سخت جانچ پڑتال، طویل حراست اور زیادہ شرح سے ملک بدری کے مسائل شامل ہیں-[20]
مستقبل کا لائحہ عمل:
مندرجہ بالا مسائل کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو عالمی امن دورجدید کا تقاضا ہے- جِس کے لئے ضروری ہے کہ 'ہم' بمقابلہ 'وہ' کی تقسیم کو ختم کیا جائے اور مشترکہ انسانی حقوق پر توجہ دی جائے- اِن دقیانوسی تصورات کو چیلنج کرتے ہوئے ایسی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جو یکساں سلوک کو ترجیح دیں- جیسا کہ اِسلامی تعلیمات امؔن، بھائی چارے، رواداری، بین المذاہب مکالمے اور مساوات کا درس دیتی ہیں ایسے ہی تمام مذاہب کی مشترکہ تعلیمات کو اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو کہ عالمی امن اور بھائی چارے کا زینہ ثابت ہو سکتی ہیں- اگر میڈیا، حکومتیں اور عوام مل کر انصاف اور ہم آہنگی کو فروغ دیں تو ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے جہاں ’’ہم‘‘ میں سب شامل ہوں اور ’’وہ‘‘ کا کوئی وجود نہ رہے-
٭٭٭
[1]Pew Research Center. (2024, March 5). Harassment of religious groups returned to peak level in 2021.
https://www.pewresearch.org/religion/2024/03/05/harassment-of-religious-groups-returned-to-peak-level-in-2021/
[2]National Consortium for the Study of Terrorism and Responses to Terrorism (START). (n.d.). Global Terrorism Database. University of Maryland. Retrieved March 15, 2025,
from https://www.start.umd.edu/research-projects/global-terrorism-database-gtd
[3]Said, E. (1978). Orientalism pantheon books. New York.
[4]Hall, S. (1982). The rediscovery of ideology: Return of the repressed in media studies. In M. Gurevitch, T. Bennett, J. Curran, & J. Woollacott (Eds.), Culture, society and the media (pp. 56-90). Routledge.
[5]Baudrillard, J. (1994). Simulacra and simulation (S. F. Glaser, Trans.). University of Michigan Press. (Original work published 1981)
[6]Chomsky, N., & Herman, E. S. (1988). Manufacturing consent: The political economy of the mass media. Pantheon Books
[7]Encyclopedia Britannica. (2023). Islamophobia. In Encyclopedia Britannica. Retrieved March 16, 2025, from https://www.britannica.com/topic/Islamophobia
[8]Khan, Z. (2016, June 21). A dangerous rise in anti-Islamic crimes in the US. Deutsche Welle.
https://www.dw.com/ur/امریکا-میں-اسلام-مخالف-جرائم-میں-خطرناک-حد-تک-اضافہ/a-19345838
[9]European Union Agency for Fundamental Rights. (2024, October 24). Muslims in Europe face ever more racism and discrimination. European Union.
https://fra.europa.eu/en/news/2024/muslims-europe-face-ever-more-racism-and-discrimination۔
[10]10. M., & Kone, Z. (2018). Unsettled status? Which EU citizens are at risk of failing to secure their rights after Brexit? Migration Observatory, University of Oxford.
https://migrationobservatory.ox.ac.uk/resources/reports/unsettled-status-which-eu-citizens-are-at
[11]Shaheen, J. G. (2003). Reel bad Arabs: How Hollywood vilifies a people. The ANNALS of the American Academy of Political and Social science, 588(1), 171-193.
[12]Jiwani, Y. (2011). Discourses of denial: Mediations of race, gender, and violence. UBC Press.
[13]Alsultany, E. (2012). Arabs and Muslims in the media: Race and representation after 9/11. New York University Press.
[14]Annenberg Inclusion Initiative. (2022). Erased or extremists: The stereotypical view of Muslims in popular media. University of Southern California. https://assets.uscannenberg.org/docs/aii-study-muslim-erased-or-extremists-20220901.pdf
[15]Shaheen, A., Smith, S. L., Choueiti, M., & Pieper, K. (2021). Missing & Maligned: The reality of Muslims in popular global movies. Annenberg Inclusion Initiative, University of Southern California.
https://assets.uscannenberg.org/docs/aii-study-muslim-representation-2021.pdf
[16]Shatanawi, M., Macdonald, S., & Puzon, K. (2021). Heritage, Islam, Europe: Entanglements and directions. An introduction. In Islam and Heritage in Europe (pp. 1-28). Routledge
[17]Human Rights Watch. (2021). Our lives are like death: Syrian refugee returns from Lebanon and Jordan. https://www.hrw.org/report/2021/10/20/our-lives-are-death/syrian-refugee-returns-lebanon-and-jordan
[18]Amnesty International. (2022). Amnesty International report 2021/22: The state of the world's human rights. https://www.amnesty.org/en/latest/research/2022/03/annual-report-202122/
[19]European Council on Refugees and Exiles. (2022). ECRE factsheet: Asylum statistics and the need for protection in Europe. https://ecre.org/ecre-factsheet-asylum-statistics-and-the-need-for-protection-in-europe/
[20]Garnier, A. (2023). UNHCR and the transformation of global refugee governance: the case of refugee resettlement. In Research handbook on the institutions of global migration governance (pp. 50-62). Edward Elgar Publishing.