ابتدائیہ:
جب سے انسان نے اس زمین پر قدم رکھا، وہ مسلسل ترقی اور تغیر کے مراحل سے گزرتا رہا ہے- ابتدائی دور میں غاروں میں رہنے والا انسان وقت کے ساتھ ایک مہذب اور تہذیب یافتہ زندگی کی طرف بڑھا- اس کے بعد انسانوں نے مل کر سوچا اور مختلف معاشرتی اصول اور اخلاقی ضابطے متعین کیے گئے تاکہ ایک پُرامن اور متوازن سماج تشکیل دیا جا سکے- پتھر سے ماڈرن ایجز تک ایک طویل سفر طے کیا- زندگی کو مزید نکھارنے کے لئے انسانوں نے سائنسی، سماجی اور سیاسی ترقی کے بے شمار مراحل عبور کیے- حکومتی اور ریاستی نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے قوانین اور ادارے قائم کیے گئےاور بین الاقوامی سطح پر امن کے قیام کے لیے کئی معاہدوں اور تنظیموں کا وجود عمل میں لایا گیا-
سترہویں صدی میں Treaty of Westphalia کے بعد جغرافیائی بنیادوں پر قومی ریاستوں کا تصور مضبوط ہوا- بیسویں صدی میں دو عالمی جنگوں کے نتیجے میں دنیا نے بے پناہ تباہی اور انسانی جانوں کے بے دریغ ضیاع کا مشاہدہ کیا- ان ہولناک جنگوں کے بعد لیگ آف نیشنز اور پھر اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تاکہ دنیا میں امن قائم رکھا جا سکے، ظلم و استبداد کا خاتمہ کیا جا سکے اور قتل و غارت گری کو روکا جا سکے- لیکن افسوس، انسان نے خود کو مہذب بھی بنا لیا، جدید ریاستی نظام اور عالمی ادارے بھی تشکیل دے دیے، مگر نہ صرف وہ خود بلکہ انہی کے قائم کردہ عدل و انصاف کے ادارے آج بھی ظلم و جبر اور ناانصافی کو روکنے میں ناکام ہیں-
اقوام متحدہ کے قیام کے وقت ہی فلسطین میں برطانوی مینڈیٹ کے تحت ایسی ناانصافی اور جبر کا آغاز ہوا جو آج 7 دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا- فلسطینی اپنی زمینوں پر جینے کاحق کھو چکے ہیں، قابض اسرائیل نہ صرف ان کی سرزمینوں پر غیر قانونی قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ نسل کشی، بربریت اور قتلِ عام کا کھلے عام ارتکاب کر رہا ہے- اقوامِ متحدہ جیسے عالمی ادارے، جو دنیا میں امن و انصاف کے قیام کے ضامن سمجھے جاتے ہیں، فلسطین اور کشمیر سمیت کئی دیگر مظلوم و کمزور اقوام کے ساتھ ہونے والے ظلم کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں-
زیر نظر مضمون ماہنامہ مراۃ العارفین انٹرنیشنل کے فروری 2025ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کا تسلسل ہے[1]، جس میں ہم اکتوبر 2023 کے بعد خصوصاً جنگ بندی کے بعد فلسطینی عوام پر اسرائیلی جارحیت اور بربریت کا تفصیلی جائزہ لینے کی کوشش کریں گے- اس مضمون میں نہ صرف ہم اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا مختلف اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں جائزہ پیش کرنے کی کوشش کریں بلکہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے پیش کیے جانے والے مختلف منصوبوں کا بھی ذکر کریں گے- یہ مضمون اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کرے گا کہ جدید دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ کے بے شمار دعوے کیے جاتے ہیں، مگر عملاً طاقتور اقوام اور ادارے مظلوموں کے حق میں کوئی عملی قدم اٹھانے سے قاصر نظر آتے ہیں- اگر وہ کوئی بات کرتے بھی ہیں تو اس میں واضح ظالم اور جابر کی حمایت کی جھلک نظر آتی ہے-
حالیہ اسرائیلی بربریت کا جائزہ:
تادمِ تحریر جنگ بندی کا معاہدہ ہونے باوجود ماہ رمضان کے مہینے میں بھی فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے- اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں 7 اکتوبر 2023ء اور 4 مارچ 2025ء کے درمیان، غزہ میں وزارت صحت (MOH) اور :
United Nations Office for the Coordination of Humanitarian Affairs
کے مطابق، کم از کم 48405فلسطینی شہید اور 111835 زخمی ہو چکے ہیں- ان اعداد و شمار میں 13319 معصوم بچے اور 7216 بے گناہ خواتین شہید ہو چکی ہیں-[2] معصوم بچوں کی شہادتوں میں، 786 بچوں کی عمریں ایک سال سے کم ہیں، جو کہ شہید ہونے والے بچوں میں سے تقریباً 6 فیصد ہیں جن کی مکمل شناخت کی تفصیلات ایم او ایچ کی طرف سے کی گئی ہیں- مزید برآں، 7 اکتوبر 2024 تک، ایم او ایچ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران 35055 معصوم بچے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں کو کھو چکے ہیں- یونیسیف کے مطابق کم از کم 1 ملین سے زائد بچوں کو ذہنی صحت اور نفسیاتی امداد کی ضرورت ہے-[3] اس کے علاؤہ اسرائیل نے بلاتر تفریق مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد میں عام شہریوں، صحت کے مراکز، سکولز اور مذہبی مقامات وغیرہ کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا- جس میں:
United Nations Relief and Works Agency for Palestine Refugees in the Near East
کے 275 افراد ، 387 رضا کار، ایم ایچ او کے مطابق 1060 ہیلتھ ورکرز دوران ڈیوٹی، 100 کے قریب سول ڈیفنس سٹاف اور 200 سے زائد صحافی شامل ہیں- منسٹری آف ایجوکیشن کے مطابق 12467 طلباء اور 519 تعلیمی عملہ فروری 2025 تک اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں- اس کے علاؤہ 20 ہزار سے زائد طلبا اور 3 ہزار کے قریب اساتذہ اور تعلیمی عملہ زخمی ہوچکا ہے- [4] غزہ میڈیا آفس کی اطلاعات کے مطابق 19 جنوری 2025ء کو جنگ بندی معاہدے کے باوجود بھی اسرائیل 150 سے زائد افراد کو شہید کر چکا ہے- جس میں صرف دو ہفتوں کے دوران 40 افراد اسرائیلی کارروائیوں کا نشانہ بنے-[5]
کھنڈرات کا منظر پیش کرتا غزہ اور دیگر فلسطینی علاقے:
تقریبا ڈیڑھ برس کے کم عرصے میں قابض اور جابر اسرائیل نے غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں ایسی بلا امتیاز فضائی بمباری سے تباہی مچائی ہے کہ نہ صرف پورا غزہ بلکہ دیگر فلسطینی علاقے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں-ماہ رمضان کے آغاز پر ایک درد ناک منظر دیکھنے کو اس وقت ملا جب سوا سال تک مسلسل بمباری کا نشانہ بننے والے تباہ حال شہر غزہ میں مظلوم فلسطینیوں نے ملبے کے درمیان اپنا پہلا اجتماعی روزہ افطار کیا-[6] غزہ کے شہریوں پر اکتوبر 2023ء سے قابض اور جابر اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی وحشیانہ بمباری میں ٹنوں کے حساب سے بارود برسایا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف 48 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے بلکہ پورا شہر کھنڈر میں تبدیل ہو گیا- اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی جارحیت کے دوران غزہ کی پٹی میں کم از کم 1.9 ملین افراد (تقریباً 90 فیصد آبادی) بے گھر ہوئے ہیں- بہت سے لوگوں کو 10 بار سے زائد مرتبہ اپنے گھروں سے بے گھر ہونا پڑا ہے- جب سیز فائر کا اعلان ہوا تو فلسطینی متاثرین جب اپنے علاقوں کو واپس لوٹے تو صرف انہیں اپنے گھروں کی بجائے صرف پتھر کے کھنڈرات نظر آئے- وزارتِ تعمیرات عامہ اور ہاؤسنگ (MoPWH) کے مطابق) زیادہ تر گھروں (92 فیصد) کو یا تو شدید نقصان پہنچا یا مکمل تباہ ہو چکے ہیں-جنگ بندی کے بعد جس خطے کے باسیوں کے پاس سر چھپانے کی جگہ ہی نہ بچی ہو ان کے لئے جنگ بندی کیا معنیٰ رکھے گی-[7]
Interim Rapid Damage and Needs Assessment (IRDNA)
کے فروری 2025ء تک کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں تجارت اور صنعت کے شعبے میں 48987 اداروں میں سے 88 فیصد کو نقصان پہنچا ہے یا مکمل تباہ ہو چکے ہیں، جس میں بالترتیب 22 فیصد کو شدید نقصان اور 66 فیصد مکمل تباہ ہو چکے ہیں- اس کے علاوہ غزہ میں 81فیصد اہم سڑکوں (مرکزی، ثانوی اور دیگر بڑی سڑکوں) اور 62فیصد کل سڑکوں (جن میں زرعی راستے بھی شامل ہیں) کو نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں-[8]عالمی بینک نے رپورٹ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ نے علاقے میں کام کرنے والے بینکوں کی تقریباً 93 فیصد شاخوں کو تباہ کردیا ہے-[9]
غزہ کی تعمیرِ نو اور نقصانات کا تخمینہ:
کھنڈرات، ویرانے اور ہر طرف چھائی خوف و ہراس کی فضاء پیش کرتے غزہ کی تعمیر نو اور دوبارہ بحالی کیلئے ایک طویل عرصہ اور سرمایہ ضرورت ہوگا- ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے 75 ہزار ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد گرایا[10]- اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے مطابق، غزہ میں 15 ماہ کی جنگ کے دوران غیرمعمولی تباہی ہوئی ہے اور علاقے میں51 ٹن ملبہ پڑا ہے-[11] اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق، ماہرین نے پیشن گوئی کی ہے کہ شدید بمباری کے نتیجے میں جمع ہونے والے ملبے کو صاف کرنے میں ایک دہائی سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے، جو کہ کل 42 ملین ٹن سے زیادہ ہے- اسی طرح اقوام متحدہ کی دوسری رپورٹ کے مطابق غزہ کا ملبہ صاف کرنے میں اگر 100 ٹرک کل وقتی کام بھی کرتے رہیں تو کم از کم 15 سال لگ سکتے ہیں-اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے:
United Nations Office for the Coordination of Humanitarian Affairs (OCHA)
کا کہنا ہے کہ غزہ کی بحالی کے دوران درپیش چیلنجز میں سے ایک بڑا مسئلہ بارودی سرنگوں اور دیگر غیر پھٹے ہوئے دھماکہ خیز مواد کو صاف کرنا ہوگا، جو 15 ماہ کی جنگ کے دوران پیچھے رہ گیا ہے- ادارے نے گلوبل پروٹیکشن کلسٹر (Global Protection Cluster) کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیا، جو اقوامِ متحدہ اور دیگر انسانی امدادی تنظیموں پر مشتمل ایک گروپ ہے- رپورٹ کے مطابق، غزہ کے ملبے میں دبے ہوئے دھماکہ خیز مواد کو صاف کرنے میں تقریباً 500 ملین ڈالر اور 10 سال لگیں گے- یہ ملبہ 42 ملین ٹن کے قریب ہے، جس میں ایسبیسٹوس، دیگر خطرناک آلودہ مواد، اور انسانی باقیات بھی شامل ہیں-[12] اس کے علاوہ اگر ناکہ بندی برقرار رہی تو اسے دوبارہ تعمیر کرنے میں 350 سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے- اقوام متحدہ کی ایک اور رپورٹ کے مطابق غزہ میں 60 فیصد سے زیادہ گھر تباہ ہو گئے ہیں اور 65 فیصد سے زیادہ سڑکیں قابل استعمال نہیں رہیں-
The Gaza & West Bank Interim Rapid Damage and Needs Assessment (IRDNA)
کے نام شائع ہونی والی رپورٹ کے مطابق، 8 اکتوبر 2023ء سے 8 اکتوبر 2024ء کے درمیان غزہ میں 49 بلین ڈالر کی تباہی ہوئی-[13] اقوام متحدہ، یورپین یونین اور عالمی بینک کی مختلف رپورٹس اور اندازوں کے مطابق غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی پر 53 ارب ڈالر خرچ ہوں گے- تعمیرنو کی کل تخمینہ لاگت کا نصف سے زیادہ تقریباً 29.9 بلین ڈالر، تباہ شدہ عمارتوں اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کیلئے درکار ہے-رپورٹ کے اندازے کے مطابق، غزہ کے صحت، تعلیم، تجارت اور صنعت کے شعبوں کو شدید نقصان کے نتیجے میں سماجی اور اقتصادی نقصانات کی تلافی کیلئے مزید 19.1 بلین ڈالر درکار ہونگے-[14]
غزہ کی تعمیرِ نو اور صدر ٹرمپ کا منصوبہ:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ:
“US should take control of the territory, remove its people, and “redevelop” it”.[15]
’’امریکہ کو اس علاقے کا کنٹرول سنبھالنا چاہیے، اس کے لوگوں کو بے دخل کر کے اس کی تعمیرنو کرنی چاہیئے ‘‘-
ان کے بیان کی وضاحت کے مطابق :
“He wanted to “take over” Gaza, resettle Palestinians in Egypt and Jordan, and implement a “redevelopment plan” that would turn the enclave into “the Riviera of the Middle East”.[16]
’’وہ(صدر ٹرمپ) غزہ کا کنٹرول لینا چاہتے ہیں، وہ مصر اور اردن میں فلسطینیوں کو آباد کرنا چاہتے ہیں ، اور ایک تعمیر نو کے منصوبےکو نافذ کرنا چاہتے ہیں جو اس محصور (غزہ) کو ’’مشرق وسطیٰ کے رویرا‘‘ یعنی تفریح گاہ میں بدل دے گا‘‘-
ان کے بیان کے مطابق، غزہ سے فلسطینیوں کی 20 لاکھ سے زائد آبادی کو جنگ سے تباہ حال اس علاقے سے اردن اور مصر منتقل کر کے غزہ کی تعمیر نو کی جائے- ٹرمپ نے غزہ کے حوالے سے اپنا یہ منصوبہ پہلی بار 4 فرروی کو اسرائیلی غاصب وزیرِاعظم بن یامین نتن یاہو کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پیش کیا تھا-[17]
غزہ کی آبادی کی بے دخلی کی ان کی تجویز کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے نسل کشی کا نام دیا ہے- بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کرنا جنگی جرم ہے-[18]
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا:
’’مقبوضہ مغربی کنارے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے بے گھر کرنے کی کوشش اسرائیلی منصوبے ہیں- اجتماعی سزا کی پالیسی پر عمل کرنا ایک ایسا طریقہ ہے جسے روس مسترد کرتا ہے‘‘-[19]
چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ غزہ کے لوگوں کی جبری منتقلی کی مخالفت کرتے ہیں- [20]جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک نے کہا کہ غزہ کی پٹی فلسطینی عوام کی ہے اور ان کی بے دخلی ناقابل قبول اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہو گی-[21] برطانیہ سمیت متعدد یورپی اور شمالی اور جنوبی امریکہ کے ممالک نے منصوبے کی مخالفت کی ہے- اسی طرح پاکستان سمیت عرب ممالک مصر اور اردن کے علاوہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور جنوبی افریقہ سمیت متعدد افریقی ممالک نے بھی اس منصوبے کی مخالفت کی ہے-[22]
دنیا بھر میں فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیلی بربریت کے خلاف لاکھوں لوگوں نے بلا رنگ و نسل اور مذہب کے احتجاجی مظاہرے اور جلوس نکالے- ان مظاہروں میں بڑی تعداد مختلف بڑی بڑی جامعات میں پڑھنے والے نوجوانوں کی شامل تھی- ظلم اور بربریت کے خلاف آواز اٹھانے پر امریکہ اور یورپ کے مختلف ممالک میں ان طلباء کو احتجاج کے باعث ڈی پورٹ اور دیگر کارروائیوں کا سامنا ہے- امریکی حکومت نے 60 کے قریب فیڈرل یونیورسٹیز کو ایک خط لکھا ہے جس میں بتایا ہے کہ انہی احتجاج کے باعث یہ یونیورسٹیاں زیر تشویش ہیں- مثلاً کولمبیا یونیورسٹی کا بجٹ کم کیا گیا ہے جس نے حال ہی میں طلباء کی ڈگریاں منسوخ کر کے انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا ہے-اس طرح دیگر کافی یونیورسٹیز کی مثالیں موجود ہیں- دنیا کے نام نہاد مہذب اور جمہوریت پسند معاشروں کے اندر اور ان کے تعلیمی ادارے جو اس کلچر کے لئے مشہور ہیں ان کا حال پوری دنیا کے سامنے ہے-
غزہ کی تعمیر نو اور عرب ممالک کا منصوبہ:
غزہ کی تعمیرِ نو کے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے متبادل کے طور عرب ممالک خصوصاً مصر نے اپنا ایک منصوبہ پیش کیا ہے- اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں 7 مارچ 2025ء کو ایک ہنگامی اجلاس کے دوران اس تجویز کو رسمی منظوری دی-[23]جبکہ اس سے 3 دن قبل 4 مارچ کو عرب لیگ نے قاہرہ میں منعقدہ اجلاس میں اس کی توثیق کی تھی-[24] یہ اجلاس مصر کے اس منصوبے کو جاری کرنے کیلئے بلائی گئی تھی جس میں فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ ہو-
یہ منصوبہ تین بڑے مراحل پر مشتمل ہے:
- عبوری اقدامات (Interim measures)
- تعمیر نو (Reconstruction)
- گورننس(Governance)
اس منصوبے کے مطابق، جنگ کے خاتمے کے بعد، آزاد اور پیشہ ور فلسطینی ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ایک انتظامی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو غزہ کے انتظامی امور سنبھالے گی- مصری منصوبے کے مطابق، یہ کمیٹی عارضی طور پر فلسطینی اتھارٹی کی نگرانی میں رہے گی اور انسانی امداد کی تقسیم اور غزہ کی پٹی کے معاملات کے انتظام کی ذمہ دار ہوگی- مصر کے غزہ کے لیے مجوزہ 53 ارب ڈالر کے 5 سالہ منصوبے میں لاکھوں مکانات، ایک تجارتی بندرگاہ اور ایک ایئرپورٹ کی تعمیر شامل ہے- منصوبے کے تحت سڑکیں صاف ہونے کے بعد، 1.2 ملین لوگوں کی رہائش کے لیے 200000 عارضی ہاؤسنگ یونٹ بنائے جائیں گے اور تقریباً 60000 تباہ شدہ عمارتوں کو بحال کیا جائے گا- اس کے ساتھ ساتھ، فلسطینی علاقوں میں انتخابات کے انعقاد اور دو ریاستی حل کی کوششیں بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں-[25]
امریکہ اور اسرائیل نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے-[26] جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے اس منصوبے کو مکمل طور پر اپنی حمایت اور تائید دی ہے-[27] OIC کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طٰہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم عرب لیگ کے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کی مکمل حمایت کرتی ہے-[28]برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں اس منصوبے کو جنگ سے متاثرہ غزہ کی بحالی کے لیے ایک ’’عملی حل‘‘ قرار دیا ہے- [29] پاکستان کے وزیر خارجہ نے او آئی سی سمٹ میں پاکستان کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ:
’’فلسطینی عوام کو جبری طور پر منتقل کرنے کی کوئی بھی کوشش، چاہے وہ غزہ سے ہو یا مغربی کنارے سے، نسل کشی بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم ہے‘‘-
پاکستان نے 3 نکات پر زور دیا ہے جس میں مستقل جنگ بندی، غزہ سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، بلا روک ٹوک انسانی رسائی اور تعمیر نو کا جامع منصوبہ شامل ہے ‘‘-[30]
اختتامیہ:
اس بات میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ کوئی بھی منصوبہ اسرائیل کو اپنے جرائم کی پاداش میں انصاف کے کٹہرے کھڑا کیے بغیر قابل قبول اور دیرپا نہیں ہوسکتا- امریکی صدر کا تجویز کردہ بحالی کا منصوبہ محض خام خیالی ہے- مصنف کی رائے میں تو یہ منصوبہ اسی صہیونی سوچ کی عکاس ہے جو اس سرزمین پر ایک بھی فلسطینی کے وجود کو برداشت نہیں کرتی -
عرب ممالک کا منصوبہ تعمیر نو اور بحالی کے لیے تو خوش آئند ہے لیکن مسئلے کا مکمل حل پیش نہیں کرتا - اگر بالفرض غزہ کی تعمیرِ نو 5 یا 10 برس میں مکمل ہو جاتی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہےکہ اسرائیل دوبارہ کبھی جارحیت کا مرتکب نہیں ہوگا؟ اس لئے دیرپا اور مستقل حل کے بغیر فلسطینی عوام کو راحت اور سکون نہیں مل سکتا کیونکہ اس مسئلے کی ابتدا محض اکتوبر 2023ء سے نہیں ہوئی بلکہ یہ مسئلہ تو دہائیوں پرانا ہے- 50 ہزار سے زائد معصوم بچوں ، عورتوں اور دیگر افراد کی نسل کشی کا کون جواب دے گا؟ جب تک قابض اور جابر اسرائیل کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے عدل نہیں کیا جاتا اور فلسطینیوں کو اپنی ریاست قائم کرنے کا مکمل حق نہیں مل جاتا ہر تجویز اور منصوبہ وقتی طور پہ لفظی، کلامی اور دل کو بہلانے کے لئے تو ہوسکتا ہے مگر کھنڈرات کا منظر دیکھنے والے مظلوم فلسطینیوں کے دکھ درد کو کم نہیں کرسکتا - اسرائیل اپنے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم جن کی بنیاد’’گریٹر اسرائیل‘‘ پر ہے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا جس کی بنیادی وجہ فلسطینیوں کے اندر موجود جذبہ حریت ہے- مائیں اپنی بیٹیوں اور باپ اپنے بیٹوں کو قربان کرنے کے باوجود اسرائیلی جارحیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہیں- فلسطینی ہر وقت اپنی آزادی اور حریت کیلئے قربانی دینے کو تیار ہیں- فلسطینیوں کے اندر یہی جذبہ کبھی بھی آزادی کی تحریک کو سرد نہیں پڑنے دے گا-
٭٭٭
[1]To see the complete article, Mirrat Ul Arifeen International, Feb, 2025.
https://www.mirrat.com/article/11/1563
[2]OCHA Report, https://www.ochaopt.org/content/reported-impact-snapshot-gaza-strip-4-march-2025
[3]UNICEF Statement,
https://www.unicef.org/press-releases/statement-unicef-executive-director-catherine-russell-children-and-continued
[4]UNRWA Report, https://www.unrwa.org/resources/reports/unrwa-situation-report-162-humanitarian-crisis-gaza-strip-and-west-bank-including
[5]AA News,
https://www.aa.com.tr/en/middle-east/israel-kills-over-150-palestinians-since-ceasefire-including-40-in-past-two-weeks-gaza-media-office/3510710
[6]Scenes from first Iftar in Gaza, https://minutemirror.com.pk/scenes-from-first-iftar-in-gaza-363434/
[7]Figures quoted in https://www.unrwa.org/resources/reports/unrwa-situation-report-162-humanitarian-crisis-gaza-strip-and-west-bank-including
[8]Report on Damage assessment
https://thedocs.worldbank.org/en/doc/133c3304e29086819c1119fe8e85366b-0280012025/original/Gaza-RDNA-final-med.pdf
[9]Destruction of banks, https://www.wam.ae/en/article/149wz1u-israel-destroyed-93-bank-branches-gaza-world-bank#:~:text=JERUSALEM%2C%2018th%20Decembe
[10]Al Jazeera, https://www.aljazeera.com/gallery/2024/4/23/photos-200-days-of-israels-war-on-gaza
[11]UN Chief statement, https://news.un.org/ur/story/2025/03/15696
[12]Al Jazeera,
https://www.aljazeera.com/gallery/2025/2/5/gaza-transformed-into-rubble-strewn-wasteland-after-israeli-bombardment?utm_campaign.
https://www.aljazeera.com/news/2025/1/1’/the-human-toll-of-israels-war-on-gaza-by-the-numbers
[13]Report on Damage assessment
https://thedocs.worldbank.org/en/doc/133c3304e29086819c1119fe8e85366b-0280012025/original/Gaza-RDNA-final-med.pdf
[14]Ibid.
[15]Trump Statement, Al Jazeera, https://aje.io/trr9oi
[16]Ibid.
[17]VoA, https://www.voanews.com/a/trump-hosting-netanyahu-for-white-house-talks-amid-gaza-ceasefire/7962063.html
[18]Al Jazeera, https://www.aljazeera.com/news/2025/2/5/insane-rights-advocates-denounce-trumps-call-for-us-to-own-gaza
[19]Al Jazeera
https://www.aljazeera.com/news/2025/2/13/trumps-gaza-plan-what-it-is-why-its-controversial-and-globally-rejected
[20]Ibid.
[21]Ibid.
[22]New York Times,
https://www.nytimes.com/2025/02/01/world/middleeast/arab-nations-reject-trump-evacuate-gaza.html
[23]Dawn, https://www.dawn.com/news/1896692
[24]Al Jazeera, https://www.aljazeera.com/news/2025/3/4/what-is-egypts-plan-for-the-reconstruction-of-gaza
[25]Ibid.
[26]BBC, https://www.bbc.co.uk/news/articles/cn7vd4pnxx3o
[27]Arab News, https://www.arabnews.com/node/2592408/middle-east
[28]AA, https://www.aa.com.tr/en/middle-east/muslim-group-rejects-forced-displacement-of-palestinians-backs-gaza-reconstruction-plan/3503585
[29]Joint statement, https://www.auswaertiges-amt.de/en/newsroom/news/arab-plan-2704386
[30]MoFA, https://mofa.gov.pk/gallery/statement-by-dpmfm-senator-mohammad-ishaq-dar-during-the-extraordinary-session-of-council-of-foreign-ministers-of-oic-in-jeddah-saudi-arabia