سلطنت عثمانیہ کے اختتام پر اسلامی خلافت اور روایات کا شیرازہ بکھر رہا تھا اورمغربی استعمار کے گھٹاٹوپ اندھیرے اسلامی دنیا کے اجالوں کو مدھم کرتے جا رہے تھے- امتِ مسلمہ کے بدن سے رُوحِ محمدی نکالنے کے لیے ابلیس کے مہرے مصروفِ عمل تھے- جہاں عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹ رہا تھا وہیں برِ صغیر میں غلامی سے مسلمانوں کی روح مضمحل ہو رہی تھی-ایسے حالات میں اشکِ سحر گاہی سے وضُو کرنے والے لوگ بھی خال خال موجود تھے جن میں سے ایک شخصیت ، بابرکت ارضِ فلسطین سے تعلق رکھنے والی اور حضور (ﷺ) کے عشق سے سرشار علامہ محمد یوسف بن اسماعیل النبہانی کی ہے-آپ نے دینِ اسلام کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کا بھر پور دفاع کیا- حدیث، تفسیر، سیرت اور نعت کے موضوعات پر کتب تحریر کیں - مدحت سرورِ کون ومکاں میں نمایاں کام کیاجس کی وجہ سے آپ کوبوصیریِٔ عصر کہا جاتا ہے-
ابتدائی ایام اور حصولِ علم و فیض
محمد یوسف بن اسماعیل النبہانی کا تعلق عرب کے بادہ نشین قبیلے بنو نبھان سے تھا جو کہ فلسطین کے گاؤں اجزم میں آ کر آباد ہوا-آپ کی پیدائش1849ءمیں اجزم میں ہوئی- قرآن کریم اپنے والد شیخ اسماعیل نبھانی سے پڑھا- علامہ نبھانی 17 برس کےتھے کہ آپ کے والد نے آپ کو تعلیم کی غرض سے مصر بھیجا- وہاں آکر آپ نے جامعۃ الازھر میں داخلہ لیا- یہاں 1866 ء سے 1872ء تک آپ نے کثیر تعداد میں علماء سے اکتسابِ علم کیا جن میں شیخ الشیوخ ابراہیم السقا الشافعیؒ سرِ فہرست تھے-[1] اس کے علاہ محمد الدمنھوری الشافعی، محمود حمزہ الدمشقی، محمد بن عبداللہ الدمشقی، عبد الہادى الابيارى، ابراہیم الزرو الخليلى ، محمد امین البیطار، ابو الخیر بن عابدین ، عبداللہ بن ادریس السنوسی، احمد الاجهورى الشافعى، حسن العدوى المالكى، شمس الدين انبابى، عبد الرحمٰن الشربينى الشافعى، عبد القادر الرافعى الحنفى الطرابلسى اور يوسف البرقاوى الحنبلى بھی آپ کے اساتذہ میں شامل ہیں-[2] تعلیم مکمل کر نے کے بعد وطن واپس لوٹے اور عکا شہر میں تعلیم دینے لگے- کئی مرتبہ بیروت اور دمشق تشریف لے گئے جہاں اکابر علماء کرام سے ملاقات کا شرف نصیب ہوا-[3] مختلف سلاسل کے بزرگوں سے اکتسابِ فیض کیا ان میں ادریسی سلسلہ کے شیخ اسماعیل نواب مہاجر مکی، شاذلی سلسلہ کے محمد بن مسعود الفاسی اور علی نور الدین الیشرطی، نقشبندیہ سلسلہ کے امداد اللہ مہاجر مکی اور غیاث الدین اربلی، قادری سلسلہ کے حسن بن ابی حلاوہ الغازی، رفاعی سلسلہ کے عبدالقادر ابو رباح الدجانی الیافی اور خلوتیہ سلسلہ کے حسن رضوان الصعیدی شامل ہیں-
عدالتی و دیگر خدمات:
آپ کچھ عرصہ فلسطین میں نابلس کے قصبہ جنین میں قاضی مقرر ہوئے- پھر استنبول چلے گئے جہاں تقریباً اڑھائی سال تک الجوائب اخبار میں ادارت کرنے کے ساتھ ساتھ عربی کتب کی پروف ریڈنگ بھی کرتے رہے- اس کے بعد آپ موصل عراق میں 15 ماہ تک قاضی رہے- 1883ء میں آپ لاذقیہ، شام کی عدالت میں ہیڈ جج مقرر ہوئےجہاں 5 برس بعد اسی منصب پر آپ کا تبادلہ بیت المقدس کی عدالت میں کر دیا گیا- اس کے بعد جلد ہی آپ کی ترقی کر کے بیروت کی عدالت میں چیف جسٹس تعینات کیا گیاجہاں آپ نے20 برس سے زائد کا عرصہ گزارا- بیروت میں آپ سرکاری لائبریری کے منتظمِ اعلیٰ بھی رہے- یہ عہد سلطان عبدالحمید ثانی کا تھا-اپنے قصیدے الرائیۃ الکبریٰ اور الرائیۃ الصغریٰ میں کفار و منافقین کی دینِ حق کے خلاف کوششوں کا رد کیا-جس پرچند حاسدین کی جانب سے سلطان عبدالحمید کو شکایتیں کی گئیں کہ آپ سلطنت میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں جس پر آپ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا- گورنر بصری جو کہ آپ کا معتقد تھا اس نے آپ سےسلطان کا حکم عرض کیاجسے آپ نے قبول کیا - گورنر بصری کہنے لگا کہ گرفتاری تو محض ایک بہانہ ہے آپ میرے پاس آئیں وہاں آپ میرے مہمان ہوں گے- جس پر آپ کو کچھ عرصہ کےلیے عزت و احترام کے ساتھ گورنر ہاؤس میں نظربند کر دیا گیا- جب آپ کو چھڑوانے کےلیے اکابرین نے کہا کہ ہم سلطان عبدالحمید سے بات کرتے ہیں تو آپ نے انہیں کہا کہ تمہیں بجائے اس کے سرورِ کونین کی بارگاہ میں عرض کرنی چاہیئے-اس وقت آپ کی رہائی کیلئے حضور نبی کریم (ﷺ) کی بارگاہ میں یہ درودشریف پڑھ کر التجا کی گئی:
’’صلى الله على نبي الامي صلى الله عليه وسلم صلاة وسلاماًعليك يا رسول الله قلت حيلتي انت وسيلتي ادركني يا سيدي يا رسول الله‘‘
اس کے ساتھ ہی گورنر کو پیغام ملا کہ آپ کو رہا کر دیا جائے-اس بارے میں آپ کا کہنا تھا کہ جب حکومت کو واضح ہو گیا کہ میں پورے خلوص سے دینِ اسلام کےلیے کام کر رہا ہوں تو مجھے باعزت رہا کر دیا گیا اور ذمہ داران نے معافی مانگی-
معمولات و آخری ایام:
1909ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کا وقت عبادت اور تحریر میں گزرا-چونکہ مدینہ طیبہ سے گہرا لگاؤ تھا اس لیے وہاں حاضر ہوئے اور چند برس قیام پذیر رہے- مدینہ منورہ سے والہانہ عقیدت و محبت تھی- حضور (ﷺ)کی قبر ِاطہر سے کچھ فاصلے پر بیٹھتے- دریافت کرنے پر بتایا کہ میں قریب بیٹھنے کے لائق نہیں- دوزانو مؤدب ہو کر بیٹھنا عادت تھی- بارگاہِ رسالت میں گستاخی وبے ادبی کی صریحاً مذمت کرتے- عراق اور شام میں قیام کے دوران اکثر و بیشتر اولیاء کرام کے مزارات پر حاضری دیتے رہے-آپ کا وصال بیروت میں رمضان المبارک 1932ء میں ہوا- آپ بیروت کے باشورہ قبرستان میں مدفون ہیں-
تصانیف:
منصبِ قضا کے ساتھ ساتھ آپ کتب لکھنے میں بھی مشغول رہے- الحاد و اہانت کے دفع و ردّ پر جو مجددانہ کام ترکی میں امام زاہد الکوثری کی کتب و تحریک نے اور پاک و ہند میں مولانا احمد رضا خان قادری حنفی کی کتب و تحریک نے کیا ، دُنیائے عرب میں وہی مجددانہ کام امام یوسف بن اسماعیل نبہانی کی کتب و تحریک نے سر انجام دیا - آپ کی کاوشوں کی بدولت دنیائے عرب اپنے عہد کے فتنوں اور فتنوں پروروں کی جہالت و بے دینی سے آگاہ ہوئے - آپ کی کتب کی ایک طویل فہرست ہے جن میں حضور (ﷺ) کے فضائل و کمالات، درودِ پاک، فضائلِ اہلِ بیت و صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) اور کراماتِ اولیاء کو موضوعِ بحث بنایا ہے اس کے علاوہ تفسیر و حدیث مبارکہ پہ بھی آپ کا جامع کام ہے:
1-تفسیر نبھانی- قرۃ العین من البیضاوی و الجلالین
اس میں آپ نے تفسیرِ بیضاوی اور تفسیر ِجلالین کو ملا کر اختصار کے ساتھ قرآنِ کریم کی تفسیر بیان کی -
2- الشرف المؤبد لٰال محمد (ﷺ)
اس میں آلِ پاک کی عظمت و رفعت کا بیان ہے- اس کا اردو ترجمہ ”برکاتِ آل رسول“ موجود ہے-جبکہ انگریزی ترجمہ بھی کیا گیا ہے-
3- وسائل الوصول الی شمائل الرسول
آقا کریم (ﷺ)کے شمائل پر ایک جامع کتاب ہے-
1-حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سید المرسلین
یہ حضور کے معجزات پر ایک جامع کتاب ہے-اس کا اردو ترجمہ بھی موجود ہے-
2- افضل الصلوات علی سید السادات
درودِپاک اور اس کے فضائل پر سیر حاصل گفتگو کی- اس کا اردو ترجمہ بھی موجود ہے-
3- الانوار المحمدیہ مختصر المواھب اللدنیۃ
سیرت پر لکھی گئی مشہور و معروف کتاب المواہب اللدنیہ کا خلاصہ تحریر کیا-
4-خلاصۃ الکلام فی ترجیح دین الاسلام
تقابلِ ادیان پر یہ ایک شاہکار تصنیف ہے- [4]
5-طیبۃ الغراء فی مدح سیّد الانبیاء مع حاشیتھا
امام بوصیری ؒ کے ہمزیہ قصیدے کی طرز پر 1001 اشعار پر مشتمل یہ قصیدہ کہا-
6-سعادۃ المعاد فی موازنۃ بانت سعاد
شاعرِ دربارِ رسالت حضرت کعب بن زہیر (رضی اللہ عنہ)نے حضور نبی کریم (ﷺ)کی مدح میں قصیدہ لکھا- علامہ نبہانی نے بھی اسی طریق کی پیروی کی-
7-سعادۃ الدارین فی الصلاۃ علی سید الکونین
یہ درودِ پاک کے موضوع پر آپ کی مشہوراور مفصل کتاب ہے-اس میں آپ نے درود شریف کے متعلق احادیث، فضائل و آداب، واقعات، مسائل، صالحین کے درودِ پاک جیسے موضوعات کا احاطہ کیا ہے-
8-الاسالیب البدیعۃ فی فضل الصحابۃ
صحابہ کے طبقات، اکابرین کے صحابہ کے متعلق ارشادات، فضیلت و شان اور اس سے متعلق واقعات درج کیے ہیں-[5] اس کا اردو ترجمہ بھی موجود ہے-
9-النظم البدیع فی مولد الشفیع
شرفِ میلاد النبی (ﷺ) پر آپ کے نہایت فصیح و بلیغ اشعار کا مجموعہ ہے -
10-الاحادیث الاربعین فی فضائل سید المرسلین
11- الاحادیث الاربعین من امثال افصح العالمین
12-رسالۃ فی مثال النعل الشریف
13- صلوات الثناء علیٰ سید الانبیاء
14- قصیدہ القول الحق فی مدح سید الخلق
15- ھادی المرید الی طرق الاسانید
16- قصائد، السابقات الجیاد فی مدح سید العباد
17- جامع الصلوات و مجمع السعادات
18- الفضائل المحمدیۃ
19- الورد الشافی مختصر الحصن الحصین
20- المذدوجۃ الغراء فی الاستغاثۃ باسماءِ اللہ الحسنیٰ
21- الصلوات الالفیہ فی الکمالات المحمدیہ
22- ریاض الجنۃ فی اذکار الکتاب و السنۃ
23- الاستغاثۃ الکبری باسماء اللہ الحسنیٰ
24-المجوعۃ النبھانیۃ فی المدائح النویۃ مع حاشیتھا
25-الخلاصۃ الوفیۃ فی رجال المجوعۃ النبھانیۃ
26-الفتح الکبیر فی ضم الزیادۃ الی الجامع الصغیر
27- صلوات الاخیار علی النبی المختار
28-ارشاد الحیاری فی تحزیر المسلمین من مدارس النصاری
29-السھام الصائبۃ لاصحاب الدعاوی الکاذبۃ
30- جامع کرامات الاولیاء
31- ھدایۃ الرحمٰن فی الرد علی ھدایۃ الشیطان
32- قصیدہ الرائیۃ الکبریٰ (سات سو پچاس اشعار کا قصیدہ)
33-قصیدہ الرائیۃ الصغریٰ في ذم البدعۃ ومدح السنۃ الغراء (550 اشعار کا قصیدہ)
34- جواھر البحار فی فضائل النبی المختار
35- شواھدالحق فی الاستغاثۃ بسیدا لخلق
36-الاحادیث الاربعین فی وجوب طاعۃ امیر المومنین
37- نجوم المھتدین فی معجزاتہ و الرد علی اعداء ہ اخوان الشیاطین
38-احسن الوسائل فی نظم اسماء النبی الکامل (اسماء منظوم)
39- البرھان المسدد فی اثبات نبوۃ سیدنا محمد
40-کتاب الاسماء فی مالسیدنا محمد من الاسماء
41-اتحاف المسلم
42- مختصر ریاض الصالحین للنووی
43- منتخب الصحیحین
44- تھذیب النفوس فی ترتیب الدروس
45-اربعین فی فضل ابی بکر و عمر و غیر ھما
46- اربعین فی فضل ابی بکر
47- اربعین فی فضائل عمر
48-اربعین فی فضل عثمان
49- اربعین فی فضائل علی
50- قّرۃ العینین علی منتخب الصحیحین
51- قرۃ العینین من البیضاوی و الجلالین
52- جامع الثناء علی اللہ وھو یشتمل علی جملۃ من احزاب اکابر الاولیاء
53- مفرح الکُروب
54- جزب الاستغاثات
55-حُسن الشرعۃ فی مشروعۃ صلواۃ الظھر بعد جمعۃ
56- الرحمۃ المھداۃ فی فضل الصلاۃ
57- دلیل التجار الی اخلاق الاخیار
58- سبیل النجاۃ
59- التحذیر من اتخاد الصور و التصویر
60- تنبیہ الافکار محکمۃ اقبال الدنیا علی الکفار
61- سعادۃ الانام فی اتباع دین الاسلام
62- الاربعین من احادیث سیّد المرسلین
63-العقود اللولویۃ فی المدائح النبویۃ، دیوان المدائح
64- البشائر الایمانیۃ فی المبشرات المنامیۃ
65-الدلالات الواضحات بشرح دلائل الخیرات
66- المبشرات
67- کتاب الاذکار
68- کتاب البرزخ
اقتباسات:
آپ کی کتب سے مستفید ہونے کی خاطر چند اقتسابات ذیل میں ہیں:
نمایاں کارنامہ: مدحت سرورِ کون و مکاں
اس کائنات کے سر پر نعلینِ مصطفےٰ (ﷺ) ہے- وہ اس قدر بلند ہے کہ ساری مخلوق اس کے سایوں میں ہے- طور پر موسیٰ کو نعلین اتارنے کی صدا دی گئی اور احمدِ کریم کو عرش پر بھی نعلین اتارنے کی اجازت نہ ملی- [6]
نبی اکمل کا نورِ مبارک ایک محترم وجود سے دوسرے محترم وجود میں منتقل ہوتا رہا- یوں وہ نور چمک رہا تھا جیسے پیشانیوں پر مشعل روشن ہو جسے ہر سمجھدار اور بے سمجھ دیکھ لیتا تھا کہ یہ وہ کوکب ہے جو برجِ سعد میں اتر آیا ہے-پیر کی رات بارہ ربیع الاول فجر سے کچھ پہلے وہ نور ظاہر ہوا، جب وہ نور چمکا تو کائنات روشن ہو گئی اور سورج اور چاند کو اس نے شرمندہ کر دیا اور چودویں کے چاند سے پنگھوڑے ہی میں ہم کلام ہوتا رہا-اے ہمارے پروردگار! اس نبی محترم کی اس عظمت کے واسطے سے جو ان کو تیرے ہاں حاصل ہے کہ ہم تجھ پر اعتماد رکھتے ہوئے اور تیرے ہاں سے خیر طلب کرتے ہیں کہ تو سب کو ہدایت کے راستے کی ہدایت دے- [7]
قرآن کریم کے اعجاز کی دلیل
قرآن کریم کے اعجاز کی کئی دلیلوں میں سے ایک دلیل دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو یاد کرنا آسان فرما دیا ہے ارشادِ ربانی ہے:
’’وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ‘‘[8]
’’اور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے کیلئے آسان فرمادیا‘‘-
سابقہ امم کی عمریں اگر چہ بہت زیادہ ہوا کرتی تھیں لیکن ان کی کتابوں کو کوئی شاذ و نادر ہی یاد کر سکتا تھا- حضرت سعید بن جبیر (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں سے کوئی شخص بھی تورات کو یاد نہیں کر سکتا تھا وہ تورات کو دیکھ کر پڑھتے تھے- تورات شریف صرف انبیاء کرام حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت یوشع اور حضرت عزیر (علیھم السلام) کو یاد تھی- لیکن امت محمدیہ (ﷺ) پر اللہ تعالیٰ نے یہ احسان فرمایا کہ قرآن پاک کا حفظ کرنا ان پر آسان فرما دیا ہے- اس میں ان گنت حفاظِ کرام ہیں اور مومنین کے بچے اس کتاب کو بالکل تھوڑی مدت میں یاد کر لیتے ہیں- [9]
حضور (ﷺ)کا قلبِ اطہر
حضور (ﷺ) کے قلبِ اطہر سے بڑھ کر وسیع کوئی قلب نہیں- حضور کا قلبِ انور ایک ایسا ہمہ گیر سمندر ہے جہاں تمام جہان کے قلوب آپ (ﷺ) کے قلبِ اطہر کے سامنے ایک قطرہ کی مقدار ہیں اور آپ (ﷺ)کی وسعت خلقی یہ ہے کے آپ ایک ایسی رحمت ہیں کہ جس کے متعلق اللہ نے فرمایا: اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے- اس مسئلہ کی بڑے بڑے علماء کی ایک جماعت نے تصریح فرمائی ہے- لہذا حضور (ﷺ)ہی ہر شے کو واسع ہیں اورآپ (ﷺ)کی علمِ الٰہی پر وسعت کی دلیل آپ کا یہ ارشادِ گرامی ہے: ’’مجھے پہلوں، پچھلوں سبھی کا علم ہے‘‘- [10]
محبتِ رسول (ﷺ):
آپ (ﷺ)سے محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ آپ (ﷺ)کے دین، آل، اصحاب، شہر اور ہر اس چیز سے محبت کی جائے جو آپ کی طرف منسوب ہو- جب بندے پر آقا کریم (ﷺ)کی محبت کی شدت کا غلبہ ہو گا تو ماسوا کے خیالات محو ہو جائیں گے- دل و جان اور آنکھ کان اس کی محبت میں مستغرق ہو جائیں گے تو اکثر آپ (ﷺ)کی زیارت سے عالمِ خواب میں مشرف ہوتا رہے گا- بعض اوقات چشمِ ظاہر سے حالتِ بیداری میں مشرف ہو جائے جیسا کہ اکابر اولیاءاور خیرۃ الاصفیاء عالمِ یقظہ میں دیدار سے مشرف ہوتے رہتے ہیں- [11]
سراجاً منیرا:
حضرت محمد الرسول اللہ (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تمام جہان پر چمکتے سورج ہیں اور سب نبی آپ (ﷺ)کے سامنے ستاروں کی مانند ہیں جو آپ (ﷺ)کے نور سے فائدہ لے کر آپ کے انوار کو ظاہر کرتے ہیں یعنی آپ سے قبل آپ کی حکمتیں اور علوم ظاہر کرتے رہے اور جب سورج طلوع ہو تو ستارے چھپ جاتے ہیں ایسے ہی آپ(ﷺ) کے آنے سے دروازہ نبوت بند ہوگیا اور آپ (ﷺ) کے دین کے علاوہ باقی ادیان باطل قرار پائے اور اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ چاند کی چاندنی سے روشنی حاصل کرنے والا سورج کی روشنی سے نور حاصل کرنے والے کی طرح ہے اور تیسری وجہ یہ ہے کہ بے شک نبی نے دنیا جہاں کی سب اطراف کو اپنی ضیأ اور نورانیت سے جگمگا دیا جس طرح چراغ سے اس کا ماحول اور اردگرد چمک جاتا ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حضور (ﷺ)نے اپنی سب امت کو روشنی بخشی جس طرح چراغ سے تمام اطراف روشن ہو جاتی ہیں مگر جو شخص دل کا اندھا ہو یا جو اس کی صفات کا تابع ہو جیسے ابوجہل وغیرہ نہ وہ آپ کی حقیقت سے آشنا ہے اور نہ ہی آپ کے نور سے روشنی حاصل کر سکے گا جیسے ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اورآپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ نہیں دیکھتے- [12]
اشیاء کی فضیلت کا دارومدار:
اس کے متعلق نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ سے وابستگی پر ہی اشیاء کی فضیلت منحصر ہے- حضور (ﷺ) کی ہجرت مبارکہ کے عمل میں ایک پہلو لوگوں پر حضور کی ہر مخلوق پر فضلیت واضح کرنا تھا- حضور (ﷺ)کعبہ اور دیگر تمام مقامات سے افضل ہیں - کیونکہ بصورت دیگر یہ وہم پیدا ہو سکتا تھا تا کہ آپ کو مکہ شریف سے فضیلت نصیب ہوئی- مسلمانوں کا اس امر پر اجماع و اتفاق ہے کہ تمام جگہوں سے افضل و برتر وہ پاک جگہ ہے جو سرورِ کونین (ﷺ)کے جسم ِ اطہر کو مس کیے ہوئے ہے- یہ واضح ہے کہ جن اشیاء کا نبی اکرم کے جسمِ اطہر مس ہو گیا ان کو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے بقدرِ مساس و اتصال شرف و فضل حاصل ہو گیا اور اس تناسب سے ہی یہ فضیلت ہوتی ہے- حضور (ﷺ)نے فرمایا کہ مدینہ کی مٹی باعثِ شفا ہےاور اس کا سبب صرف یہی ہے کہ محبوب کریم (ﷺ) اپنے مقدس و مبارک قدمین کے ساتھ اس پر چلتے پھرتے رہے- آپ (ﷺ) کی آمد و رفت مسجد نبوی شریف میں دوسرے مقامات سے زیادہ تھی اس لیے اس میں ایک نماز کا اجر و ثواب ہزاروں نمازوں کے برابر ہو گیا اور چونکہ مسجد شریف کے آپ کی آمد و رفت اپنے دولت کدہ اور منبر شریف کے درمیان زیادہ تھی لہذا وہ بقعہ مبارک جنت کے باغات میں سے ایک باغ بن گیا- [13]
امام مالکؒ کا ادبِ رسول :
امام مالکؒ کے حکومت وقت کی ایذا رسانی کی وجہ سے دونوں ہاتھوں اور پاؤں کے جوڑ اکھڑ گئے اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہو گئے- چونکہ آپ مدینہ طیبہ ہی میں رہتے تھے اور خلیفہ کا ایلچی ان کے پاس خچر لے کر آیا کہ اس پر سوار ہو کر خلیفہ کے پاس چلیں تو آپ نے اس پر سوار ہونے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ یہ وہ مقدس مقام ہے جہاں حبیبِ خدا کے پائے ناز لگے ہیں تو میں اپنے اندر اتنی جرات نہیں رکھتا ہوں کہ ان مقدس جگہوں کو خچر کے سموں سے پامال کروں- دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اور ان کا سہارا لے کر خلیفہ کے پاس شہر سے باہر اس حال میں پہنچے کہ ان کے قدم زمین پر خط کھینچے جا رہے تھے اور وہاں سے واپس مسجد نبوی حاضر ہوئےتو خلیفہ نے دریافت کیا کہ میں قبلہ رو ہو کر دعا کروں یا نبی اکرم (ﷺ)کی طرف تو آپ نے فرمایا تو ان سے اپنا منہ کیوں موڑتا ہے حالانکہ وہ تیرے اور تیرے باپ حضرت آدم کے وسیلہ ہیں- [14]
حرفِ آخر:
علامہ یوسف نبھانی کے نزدیک مادیت کی زیادتی اور انسانوں میں اوصاف حمیدہ کی کمی اہم مسائل ہیں جن سے نمٹنا ازحد ضروری ہے-مغربی استعمار کے سامنے علامہ نبہانی کا لہجہ دیگر لوگوں کی طرح معذرت خواہانہ نہیں تھا-جرأت و استقامت اور تدبر و استدلال کے حوالے سے آپ مادیت پرستوں، فسادیوں اور گمراہوں کیلئے شمشیرِ بے نیام ثابت ہوئے- آپ نےرحمت للعالمین (ﷺ) کی محبت و عظمت کو لوگوں کے دلوں میں بھرپور طریقے سے اجاگر کرتے ہوئے انتہائی مصروف زندگی گزاری- حضور (ﷺ) سے تعلق ہی واحد شے ہے جو ہمیں جہانِ دارین میں سرفرازی دے سکتی ہے- اس لیے ہمیں حضور (ﷺ)کے عشق کو مشعلِ راہ بنانے کی ضرورت ہے-
٭٭٭
[1]جامع کراماتِ اولیاء، تالیف: الامام المحقق علامہ محمد یوسف نبہانی، ضیاء القرآن پبلی کیشنز،2013، ج: 1، ص:37
[2]يوسف النبهاني الشاعر الفلسطيني الرائد ، عيسى محمد علي منصور ماضي ، رسالة الدكتوراه ،ج:1، ص:154-155
فهرس الفهارس والأثبات ومعجم المعاجم والمشيخات والمسلسلات ، المؤلف: عبد الحي بن عبد الكبير الكتاني، الناشر: دار الغرب الإسلامي، سنة النشر: 1402، ج:1، ص:1108
[3]https://sunnah.org/2008/07/18/imam-al-qadi-yusuf-al-nabhani
[4]جامع کراماتِ اولیاء، تالیف: الامام المحقق علامہ محمد یوسف نبہانی، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، 2013،ج:1، ص:33
[5]کمالاتِ اصحابِ رسول، مصنف: علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی، مترجم :پروفیسر محمد اعجاز جنجوعہ، نوریہ رضویہ پبلی کیشنز، ص:3–6
[6]عربی نعت اور علامہ نبہانی، المجموعة النبھانیه فى المدائح النبویہ(عربی نعت کا ایک وقیع مجموعہ)، ماہنامہ نعت، لاہور، فروری 1993، ص:96
[7] ایضاً، ص:49
[8]القمر:17
[9] حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سید المرسلین، تصنیف: علامہ محمد یوسف بن اسمٰعیل نبہانی، ضیأ القرآن پبلی کیشنز،ج:1، ص: 501
[10]جواہر البحار فی فضائل النبی المختار، علامہ محمد یوسف بن اسمٰعیل نبہانی، ضیاءالقرآن پبلی کیشنز، لاہور،ج:2، ص:374-375
[11]ایضاً،ج:3، ص:135
[12]ایضاً،ج:4، ص:78
[13]شواھدالحق فی الاستغاثۃ بسیدا لخلق، علامہ محمد یوسف بن اسمٰعیل نبہانی، حامد اینڈ کمپنی، لاہور، ص:110–111
[14]ایضاً، ص:117