دستک : موسمیاتی تبدیلیاں وجوہات، اثرات اور تدارک کےطریقے

دستک :  موسمیاتی تبدیلیاں وجوہات، اثرات اور تدارک کےطریقے

دستک : موسمیاتی تبدیلیاں وجوہات، اثرات اور تدارک کےطریقے

مصنف: اپریل 2025

موسمیاتی تبدیلیاں: وجوہات، اثرات اور تدارک کے طریقے

انسان کے اردگرد کے ماحول میں وقوع پذیر ہونی والے مختلف عوامل انسانی زندگی، آنے والی نسلوں، مختلف انواع اور ان کے مستقبل پر بے شمار مثبت اور منفی اثرات مرتب کرتے ہیں- ان عوامل کے وقوع پذیر ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں کا خود عمل دخل ہے جو قدرتی نظام کو تبدیل کرنے میں اہم وکلیدی وجہ بن رہا ہے- جس کرۂ ارض پر ہم بستے ہیں وہ مختلف عناصر کا مرکب ہے جس میں مٹی، ہوا، پانی، روشنی اور کئی اقسام کی دھاتیں وغیرہ شامل ہیں- انسانی زندگی کے تسلسل کا سارا دارومدار انہی عناصر سے پیدا وسائل کے میسر ہونے پر ہے- مثلاً اگر کرۂ ارض سے صرف ایک عنصر پانی ہی ختم ہو جائےتو حیات نوع کا یہاں تسلسل برقرار رہنا ہی محال ہو جائے گا- نظام قدرت نے ایک ایکو سسٹم بنایا ہے جس میں ہر چیز کا ایک خاص تناسب میں رہنا ضروری ہے -

آج انسانی سرگرمیوں اور دیگر عوامل کی وجہ سے کرۂ ارض کا قدرتی نظام بگڑ رہا ہے اور خصوصاً اس وقت کرۂ ارض کو موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہے- ماحولیاتی نظام میں وقوع پذیر ان تبدیلیوں سے انسانی زندگی تو متاثر ہو رہی ہے اس کے علاوہ سمندری حیات، نباتات اور جنگلی حیات کو بھی شدید خطرات درپیش ہیں- انہی تبدیلوں کی بدولت مختلف اقسام کے جانور جو صدیوں سے اس کرۂ ارض پہ آباد تھے اب ان کی نسل معدوم ہو چکی ہے اور کچھ کی ہوتی جا رہی ہے-

صنعتی ترقی کے نام پر دنیا بھر کے مختلف خطوں میں زہریلی گیسوں کے اخراج اور جنگلات کے کٹاؤ کے باعث درجہِ حرارت میں شدید اضافہ ہوا ہے- کرۂ ارض کا مجموعی درجہ حرارت بتدریج بڑھتا جا رہا ہے-میڈیا رپورٹس کے مطابق 2022ء میں یورپ میں گرمی کی شدت سے 24 ہزار سے زیادہ اضافی اموات ہوئیں- کیلیفورنیا کے جنگلات میں آگ سے لےکر سپین سمیت دنیا بھر کے مختلف خطوں میں تسلسل سے آنے والے سیلاب ایک خطرے کی گھنٹی ہیں، ان کو ماحولیاتی تبدیلی کے نقطہ نظر سے دیکھنا از حد ضروری ہے - ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) نے 2024ء کو ریکارڈ گرم ترین سال قرار دیا ہے- سال 2024 کے دوران صنعت سے پہلے ( pre-industrial level 1850-1900) کی سطح سے درجہ حرارت تقریباً 1.55 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا ہے-ناسا نے بھی اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے- مختلف ماہرین اور سائنسدانوں کے مطابق زمین کا درجہ حرارت 1.5 سینٹی گریڈ سے بڑھنے کی وجہ سے ہیٹ ویو، خشک سالی، سیلاب، قدرتی نظام کا خاتمہ اور سطح سمندر میں اضافے جیسے خطرات کرۂ ارض کو لاحق ہو سکتے ہیں جس کے باعث انسانی زندگی کا تحفظ اور بقا کو شدید مشکلات درپیش ہوں گے-

 یہ موسمیاتی تبدیلیاں موسم میں حدت کے اضافہ کی وجہ ہیں جس کی بنیادی وجہ جنگلات کا کٹاؤاور کاربن سمیت دیگرمختلف زہریلی گیسوں کا اخراج ہے- اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 2022 اور 2023 کے درمیان 1.3 فیصد اضافہ ہوا، جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی 57.1 گیگاٹن کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا- اس کے علاوہ دنیا بھر کے مختلف خطوں میں گلیشئرز پگھلتے جا رہے ہیں- دنیا بھر میں وقوع پذیر ان موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان بھی شدید متاثر ہوا جو کئی برسوں سےاپنے کسی خطے میں خشک سالی اورکسی حصہ میں سیلاب جیسی آفات کا سامنا کر رہا ہے- ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2022ء کے سیلاب کی تباہی اور اس کے نتیجے میں معاشی نقصان کا تخمینہ 30 بلین ڈالرز تھا –

موسمیاتی تبدیلیوں میں فضائی آلودگی بھی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ہے- 2024 میں فضائی آلودگی کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان، فضائی آلودگی کے حوالے سے دنیا بھر میں تیسرے سب سے زیادہ آلودہ ممالک میں شامل کیا گیا ہے- عالمی ایئر کوالٹی انڈیکس (IQAir) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جو کہ باعث تشویش ہے- اس کی بڑی وجوہات میں صنعتی دھواں، ٹرانسپورٹ کا دھواں، اور ماحولیاتی بے احتیاطی ہیں- پاکستان میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک ہونے کے باعث صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں- اس فہرست میں بنگلہ دیش دوسرے اور بھارت پہلے نمبر پر ہے- رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے لاہور اور کراچی سمیت کئی شہروں میں ہوا کا معیار عالمی معیار سے کہیں زیادہ خراب پایا گیا، جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے-

دنیا بھر میں ہر سال 22 اپریل کو عالمی یومِ ارض منایا جاتا ہے- اس سال بھی یہ دن ایک بنیادی نعرہ ’’our planet our power‘‘ کے تحت منایا جا رہا ہے- اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد کرہ ارض کو درپیش خطرات سے متعلق آگاہی پھیلانا ہے- آج قومی اور انفرادی طور پر ملک پاکستان کے اندر درخت وجنگلات کا زیادہ سے زیادہ اگانا اور آلودگی کے کم پھیلاؤ جیسے اقدامات کرنے کے لئے ماحولیاتی شعور کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر اجاگر کرنا اور قوانین پر عملدرآمد کرنے سے درپیش خطرات سے نمٹا جا سکتا ہے-

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر