اقتباس

اقتباس

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلہِ شُہَدَآءَ بِالْقِسْطِ ز وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَ لَّا تَعْدِلُوْاط اِعْدِلُوْا قف ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰیز وَاتَّقُوا اللہَ  ط  اِنَّ اللہَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ‘‘

’’اے ایمان والو اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ ابھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو -بے شک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے‘‘- (المائدہ:8)

رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

حضرت عبد اللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ سیّدی  رسول اللہ(ﷺ) نے ارشاد فرمایا:’’بے شک انصاف کرنے والے اللہ کے ہاں اللہ عز و جل کے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے- جبکہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں- یہ وہ لوگ ہوں گے، جو اپنی رعایا، اپنے اہل و عیال اور اپنے ماتحت لوگوں میں عدل و انصاف کرتے ہوں گے‘‘- (صحیح مسلم ، كِتَابُ الْإِمَارَةِ)

فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :

’’اے مومنو !آپس  میں  عدل و انصاف کو قائم کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہو جاؤ یعنی  ہمیشہ اور لگاتار انصاف کرو اور اگر تم کسی واقعہ میں گواہ ہو تو پھر ایسے گواہ ہو جاؤ جو گواہی کی ادائیگی میں اللہ عزوجل سے مخلص ہوتے ہیں-ان میں کسی ایک جانب میلان نہیں ہوتا اور نہ ہی جھوٹ اور نہ ہی گواہی چھپانا ان کا کام ہوتا ہے اگرچہ تم گواہ خود اپنے بارے میں ہی کیوں نہ ہو-اس طرح کہ تم ان حقوق کا اقرار کرو جو کسی غیر کا تمہارے ذمہ واجب الادا ہے یا تمہارے والدین کے ذمہ ہے اور تمہارے قرابت والوں کے ذمہ ہے-تو اے گواہو! تم پر لازم ہے کہ شہادت کی ادائیگی میں بغیر میلان اور زیادتی، عدل و انصاف کو مدّ نظر رکھو-اگر وہ شخص جس کے خلاف گواہی ہے یا جس کے حق میں گواہی ہے وہ غنی ہے یا فقیر ہے یعنی تمہیں یہ حق نہیں کہ فقیر کی جانب کی رعایت کرو اور غنی سے منہ پھیر لو بلکہ تم پر صرف یہ لازم ہے کہ تمہارے پاس جو گواہی ہے اسے اس کی اصل شکل میں ادا کرو پس اللہ تعالیٰ ان دونوں سے زیادہ حقدار ہے اس کا لحاظ رکھا جائے ‘‘-(تفسیر جیلانی) 

فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:

ث: ثابت صدق تے قدم اگیرے تائیں رب لبھیوے ھو
 لوں لوں دے وچ ذکر اللہ دا  ہر دم پیا  پڑھیوے ھو
 ظاہر باطن عین عیانی، ھو ھو پیا سنیوے ھو
نام فقیر تنہاں دا باھو قبر جنہاندی جیوے ھو (ابیاتِ باھو)

فرمان قائداعظم محمد علی جناح ؒ :

ایمان ، اتحاد، تنظیم

’’اسلام نہ صرف رسم و رواج ،روایات اور روحانی نظریات کا مجموعہ ہے بلکہ اسلام ہر مسلمان کے لیے ایک ضابطہ بھی ہے جو اس کی حیات اور اس کے رویہ بلکہ اس کی سیاست و اقتصادیات وغیرہ پر محیط ہے یہ وقار،دیانت، انصاف اور سب کے لیے عدل کے اعلیٰ ترین اصولوں پر مبنی ہے، ایک خدا اور خدا کی توحید، اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے-اسلام میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی میں کوئی فرق نہیں-مساوات،آزادی اور یگانگت اسلام کے بنیادی اُصول ہیں- (کراچی 25 جنوری 1948ء)

فرمان علامہ محمد اقبالؒ:

اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف
فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف (ضربِ کلیم)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر