عالمگیریت کے نتیجے میں دنیا ایک عالمی گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں دو ریاستوں کے درمیان ہونے والے کسی بھی جنگ یا تنازع کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں- اس قسم کے بحرانوں کے باعث بین الاقوامی تجارت اور روزگار کے مواقع اور قیمتی جانیں بری طرح متاثر ہوتی ہیں - روس-یوکرین جنگ کی مثال اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے- فروری 2022 ءمیں روس نے یوکرین پر مکمل فوجی حملہ کیا، جس کے بعد صدر زلنسکی نے مارشل لاء نافذ کیا اور 18 سے 60 سال کے مردوں پر ملک چھوڑنے کی پابندی لگا دی- عالمی برادری نے روس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں، جبکہ نیٹو اور مغربی ممالک نے یوکرین کو فوجی امداد، جدید اسلحہ، ٹینک، میزائل سسٹمز اور دفاعی سازوسامان اور انسانی امداد، میں خوراک، طبی سامان، اور پناہ گزینوں کی مدد شامل ہے - جون سے نومبر 2022ء کے دوران جنگ میں شدت آئی، یوکرین نے خارکیف کے کئی علاقے دوبارہ حاصل کیے، جبکہ روس نے متنازعہ ریفرنڈم کے ذریعے کچھ علاقوں کے الحاق کا دعویٰ کیا-دسمبر 2022ء سے فروری 2023ء میں سردیوں کے باعث جنگ کی شدت کم ہوئی، لیکن سفارتی کوششیں بے نتیجہ رہیں- مارچ سے دسمبر 2023ء تک جنگ نے 50 لاکھ سے زائد شہریوں کو بے گھر کر دیا اور خوراک و توانائی کی عالمی منڈیوں میں بحران پیدا کیا- 2024ء میں برطانیہ میں حکومت بدلی، مگر جنگ جاری رہی- 20 جنوری 2025ء کو امریکہ میں نئی حکومت بنی، جس کا عالمی ردعمل پر اثر ڈلتا نظر آتا ہے-اب تک، یوکرین کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، عالمی معیشت 30 فیصد عدم استحکام کا شکار ہے اور مغربی ممالک نے 100 ارب ڈالر سے زائد فوجی امداد فراہم کی ہے- ہزاروں فوجی اور شہری ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں- تاہم، جنگ کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آ رہا -[1]
جنگی پس منظر :
سوویت یونین کے 1991ء میں خاتمے کے بعد یورپ کا جغرافیائی سیاسی منظر نامہ نمایاں طور پر تبدیل ہوا- سابقہ مشرقی بلاک[2] کے ممالک نے مغربی اداروں، خاص طور پر نیٹو اور یورپی یونین، کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنا شروع کیے- نیٹو کی مشرقی یورپ میں توسیع کا مقصد خطے میں استحکام، اجتماعی دفاع کو مضبوط کرنا اور مستقبل کے تنازعات کو روکنا تھا - تاہم، روس نے نیٹو کی اس توسیع کو اپنی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ سمجھااور اسے روس کو مغربی فوجی اتحاد کے گھیرے میں لینے کی کوشش قرار دیا گیا- اس کشیدگی نے یوکرین میں 2014ء میں کریمیا کے الحاق اور ڈونباس تنازعے جیسے بڑے جغرافیائی سیاسی تنازعات کو جنم دیا- اسی طرح، یورپی یونین کی توسیع کا مقصد مشرقی یورپ کے ممالک میں جمہوریت، معیشت اور استحکام کو فروغ دینا تھا، لیکن اس عمل نے بھی روس کے ساتھ تنازعات کو بڑھایا، کیونکہ ماسکو نے اسے اپنی جغرافیائی سیاست پر حملہ سمجھا- روس نے یورپی یونین کی پابندیوں کے جواب میں توانائی کے وسائل کو سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے خلاف جو روسی گیس پر انحصار کرتے ہیں- مثلاً، 2022ء میں روس نے پولینڈ اور بلغاریہ کو گیس کی فراہمی معطل کر دی تھی کیونکہ ان ممالک نے روسی گیس کی ادائیگی روبل میں کرنے سے انکار کیا تھا- یوکرین میں روس کی مداخلت کے بعد، مغربی ممالک نے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں، جس سے روسی معیشت متاثر ہوئی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یورپی کاروبار اور تجارتی تعلقات بھی متاثر ہوئے-
ان جغرافیائی سیاسی تنازعات کے نتیجے میں مشرقی یورپ کو شدید انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر یوکرین میں، جہاں جنگ کے نتیجے میں 10000 سے زائد شہری ہلاک اور 8 ملین سے زائد افراد بے گھر ہوئے- کریمیا کے الحاق اور ڈونباس جنگ نے خوراک کی قلت، صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی اور اقتصادی تباہی کو مزید سنگین بنا دیا- یورپی یونین، امریکہ اور اقوام متحدہ نے روس پر پابندیاں عائد کیں، یوکرین کو مالی امداد فراہم کی اور سفارتی مذاکرات جیسے کہ منسک معاہدے کے ذریعے امن کی کوششیں کیں -[3]
روس-یوکرین جنگ میں دونوں ممالک نے مختلف حربے استعمال کیے ہیں، جن میں فوجی کارروائیاں، سفارتی کوششیں اور معاشی اقدامات شامل ہیں- یوکرین نے مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کردہ جدید اسلحے اور فوجی امداد کا استعمال کرتے ہوئے روسی افواج کا مقابلہ کیا ہے- امریکہ، برطانیہ اور دیگر نیٹو ممالک نے یوکرین کو ہتھیاروں، ٹینکوں، اور دفاعی نظاموں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے- اس کے علاوہ، یوکرین نے سائبر جنگ کے ذریعے روسی افواج کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے، جس میں روسی فوجی اور سرکاری ویب سائٹس کو ہیک کرنا شامل ہے -[4]
دوسری طرف، روس نے یوکرین کے خلاف اپنی فوجی طاقت کا بھرپور استعمال کیا ہے، جس میں میزائل حملے، فضائی بمباری اور زمینی فوجی کارروائیاں شامل ہیں- روس نے یوکرین کے اہم شہروں، جیسے کہ کیف، خارکیف اور ماریوپول پر بھاری بمباری کی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے- روس نے یوکرین میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے پراکسی گروپس کا بھی استعمال کیا ہے، جو یوکرین کے مشرقی علاقوں میں سرگرم ہیں- روس کو فوجی اور معاشی مدد کی فراہمی میں چین اور بیلاروس جیسے ممالک کا تعاون حاصل ہے، جو روس کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں -[5]
عالمی برادری نے روس-یوکرین جنگ پر مختلف ردعمل ظاہر کیا، جہاں امریکہ، کینیڈا اور یورپی یونین نے روس پر سخت معاشی پابندیاں عائد کیں اور یوکرین کو فوجی امداد فراہم کی، وہیں چین، بھارت اور کچھ افریقی ممالک غیر جانبدار رہے اور ایران اور شمالی کوریا نے روس کی کھل کر حمایت کی- اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں متعدد قراردادیں پیش کی گئیں، جن میں 2 مارچ 2022ء کو جنرل اسمبلی کی قرارداد میں 141 ممالک نے روسی حملے کی مذمت کی، جبکہ 5 ممالک نے مخالفت کی اور 35 غیر جانبدار رہے - [6]24 فروری 2022 کو سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد روس نے ویٹو کر دی، جس میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا- 7 اپریل 2022ء کو جنرل اسمبلی نے یوکرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کیلئے قرارداد منظور کی، جسے 93 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ 24 نے مخالفت اور 58 نے غیر جانبداری اختیار کی- 12 اکتوبر 2022ء کو جنرل اسمبلی نے روس کے چار علاقوں کے غیر قانونی الحاق کی مذمت کی، جسے 143 ممالک نے منظور کیا، 5 نے مخالفت کی اور 35 غیر جانبدار رہے -[7] 23 فروری 2023ء کو جنرل اسمبلی نے فوری جنگ بندی اور روسی فوجوں کی واپسی کا مطالبہ کیا، جسے 141 ممالک نے حمایت دی، 7 نے مخالفت کی اور 32 غیر جانبدار رہے- ان قراردادوں سے عالمی برادری کا متحدہ مؤقف واضح ہوا، لیکن روس کے ویٹو پاور کی وجہ سے سلامتی کونسل میں کوئی مؤثر اقدامات نہ کیے جا سکے -[8]
جون میرشائمر ایک ممتاز امریکی ماہرِ بین الاقوامی تعلقات اور حقیقت پسندانہ (Realist) نظریہ کے حامی ہیں، جو جیو پولیٹکس اور سیکیورٹی اسٹڈیز پر اپنی تحقیقی تصانیف کے لیے مشہور ہیں- روس-یوکرین جنگ کی بنیادی وجہ نیٹو کی مشرقی توسیع اور مغربی مداخلت کو قرار دیتے ہیں-
’’امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی اس بحران کی زیادہ تر ذمہ داری رکھتے ہیں‘‘-
ریاستیں اپنی سلامتی اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں- ان کے مطابق روس اور یوکرین کو ایک بفر زون سمجھتا ہے- اور مزید لکھتے ہیں:
’’روس کی کارروائیاں محض ایک مقامی بڑی طاقت کی جانب سے اپنی سرحدوں کے ارد گرد اثر و رسوخ کا دائرہ برقرار رکھنے کی کوشش ہے، جو بیرونی دباؤ کے پیش نظر کی جا رہی ہیں ‘‘- [9]
روس-یوکرین تنازعہ اور عالمی سلامتی
روس کا جوہری حکمت عملی یوکرین تنازعے میں ایک اہم شدت کی نشاندہی کرتی ہے- صدر پیوٹن کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی حد کو کم کرنا اس بات کی علامت ہے کہ روس روایتی حملوں کے جواب میں جوہری ردعمل دے سکتا ہے، خاص طور پر اگر وہ حملے ایسے ممالک کے فراہم کردہ ہتھیاروں کے ذریعے کیے جائیں جو خود جوہری طاقت ہیں، جیسے کہ امریکہ- اس حکمت عملی کا مقصد مغربی ممالک کو یوکرین کی فوجی امداد سے باز رکھنا اور روایتی اور جوہری جنگ کے درمیان حد کو دھندلا کرنا ہے- یہ نئی پالیسی روس کو میزائل یا ڈرون حملوں کو بھی جوہری خطرہ سمجھ کر جوابی کارروائی کا اختیار دیتی ہے، جس سے کسی بھی غلط اندازے یا غیر ارادی طور پر جنگ کے وسیع ہونے کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے اور عالمی صورتحال مزید نازک ہو چکی ہے-
یوکرین کی جانب سے امریکی فوجی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم [10]،میزائلوں کے استعمال کا فیصلہ تنازعے میں ایک نیا موڑ ثابت ہوا ہے- یوکرین نے پہلی بار امریکی فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے براہ راست روسی سرزمین (بریانسک علاقہ) کو نشانہ بنایا، جس سے جنگ کے دائرے میں مزید توسیع ہو گئی- روس نے اس کارروائی کو امریکہ کی براہ راست شمولیت قرار دیا ہے، جس سے ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں- روسی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات روس اور امریکہ کے درمیان براہ راست تصادم کا سبب بن سکتے ہیں، جس سے مزید جغرافیائی و سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگا- یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ میں صدارتی انتظامیہ کی تبدیلی کا عمل جاری تھا، جہاں بائیڈن حکومت یوکرین کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کر تی رہی، تاکہ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس پالیسی میں ممکنہ تبدیلی سے پہلے یوکرین کو مضبوط کیا جا سکے-یوکرین کی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے حملوں کے جواب میں روس نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ’’ٹھوس اور مؤثر‘‘ ردعمل دینے کی دھمکی دی ہے- اس ردعمل میں فوجی کارروائیاں، سائبر حملے، یا مزید جوہری طاقت کا مظاہرہ شامل ہو سکتا ہے- عالمی صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے اور جوہری طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے - [11]
روس-یوکرین جنگ کے عالمی تجارت پر اثرات:
روس کے یوکرین پر حملے نے نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر شدید اثر ڈالا ہے، جس کے نتیجے میں خوراک، ایندھن اور خام مال کی سپلائی متاثر ہوئی- جنگ سے پہلے روس اور یوکرین عالمی گندم کی برآمدات کا 25 فیصد فراہم کرتے تھے، جبکہ روس یورپ کے لیے 40 فیصد توانائی فراہم کرتا تھا- جنگ کے بعد، خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں 30 سے 50 فیصد تک اضافہ ہوا، جو پہلے ہی کووڈ -19 کے بعد مہنگائی کی بلند ترین سطح پر تھیں- اس جنگ کے باعث عالمی سپلائی چین میں 20 فیصد سے زیادہ رکاوٹیں آئیں، جس سے پیداوار اور برآمدات میں کمی واقع ہوئی- خاص طور پر، روس پر لگنے والی اقتصادی پابندیوں نے تیل، گیس اور صنعتی دھاتوں کی سپلائی کو محدود کر دیا، جس کے نتیجے میں یورپ کو متبادل توانائی کے ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہونا پڑا- اس کے علاوہ، زرعی اجناس اور کھاد کی قلت کے باعث ترقی پذیر ممالک میں خوراک کی قیمتوں میں 35 فیصد تک اضافہ ہوا، جس نے غذائی بحران اور غربت میں 15 فیصد اضافہ کر دیا- جنگ نے عالمی تجارتی نظام کو غیر مستحکم کرتے ہوئے ڈی گلوبلائزیشن کے رجحان کو تیز کیا، جہاں کئی ممالک نے اپنی سپلائی چین کو مقامی وسائل پر منتقل کرنے کی کوششیں کیں، جس سے بین الاقوامی تجارت میں 10 فیصد کمی پیدا ہوئی - [12]
اس جنگ سے یوکرین کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا، اور اس کا جی ڈی پی جنگ کے پہلے سال میں 30 سے 35 فیصد تک کم ہوگیا- جنگ کے باعث یوکرین میں 71 لاکھ مزید لوگ غربت کا شکار ہو گئے، جس سے غربت کی شرح 5.5 فیصد سے بڑھ کر 2022ء میں 24.2 فیصد ہو گئی- خوراک کی قلت بڑھ گئی، خاص طور پر مشرقی اور جنوبی علاقوں میں، جہاں 50 فیصد خاندانوں کو کھانے کی کمی کا سامنا ہے- یوکرین کا زرعی شعبہ، جو پہلے 45 فیصد برآمدات یعنی 22.2 ارب ڈالر کماتا تھا، جنگ سے شدید متاثر ہوا- سیاہ سمندر اناج معاہدے (Black Sea Grain Initiative )[13] کے تحت کچھ دیر کے لیے برآمدات میں بہتری آئی، اور یوکرین نے 3 کروڑ 30 لاکھ ٹن خوراک برآمد کی، مگر جولائی 2023ء میں روس کے معاہدے سے نکلنے کے بعد یہ عمل رک گیا- جنگ کی وجہ سے 60 لاکھ سے زیادہ یوکرینی شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جس سے افرادی قوت میں 15 فیصد کمی ہو گئی اور کاروبار کی شرح سال کے آخر میں 32 فیصد رہ گئی-
روس پر لگائی گئی پابندیوں سے اس کی معیشت کو بڑا نقصان پہنچا، لیکن یہ جنگ ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں- جنگ سے پہلے، روس کی معیشت کا 50 فیصد حصہ تجارت پر مبنی تھا، اور ماہرین نے پیشگوئی کی تھی کہ 2022ء میں روس کی معیشت 11 فیصد تک گر جائے گی- لیکن حقیقت میں، اس کا جی ڈی پی 2.1 سے 4.5 فیصد تک کم ہوا، جو توقع سے کم تھا- اس کے باوجود، طویل مدتی نقصان بہت زیادہ ہے، اور اندازہ ہے کہ روس کی معیشت پابندیوں کے بغیر 7 سے 10 فیصد زیادہ ترقی کر سکتی تھی- 2023ء کے پہلے تین ماہ میں روس کا بجٹ خسارہ 2400 ارب روبل تک پہنچ گیا، جو پورے سال کے بجٹ خسارے کا آدھا ہے- روس کی معیشت میں بھی بڑی تبدیلیاں آئی ہیں- گاڑیاں بنانے کی صنعت شدید متاثر ہوئی اور پیداوار میں شدید کمی ہوئی اور پیداوار 25 فیصد تک گر گئی، جبکہ جنگی سامان دھاتوں اور کپڑوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا- اگرچہ پابندیوں نے روس کی جنگی کارروائیوں کو نہیں روکا، لیکن اس کی فوجی طاقت کو کمزور ضرور کیا ہے-
روس نے اپنے بجٹ کا زیادہ حصہ جنگ پر خرچ کرنا شروع کر دیا، جس سے عام عوام کے لیے مشکلات بڑھ گئیں- 2023ء میں روس نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے پر 50 فیصدسے زیادہ خرچ کیا، جبکہ صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور صنعت پر خرچ میں بالترتیب 9، 2، 24 اور 19 فیصد کمی کر دی گئی - اس جنگ میں روس کے تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار فوجی مارے جا چکے ہیں اور کئی نوجوان اور تعلیم یافتہ افراد ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، جس سے ملک کو ’برین ڈرین‘ کا سامنا ہے- روسی کرنسی روبل کی قدر گر چکی ہے، جس سے 1998ء جیسے بڑے مالی بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے- اگر جنگ جاری رہی تو روس کو ایک لمبے عرصے تک شدید اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو 1990ء کی دہائی کے بحران سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے -[14]
روس-یوکرین جنگ اور پاکستانی معیشت
روس-یوکرین جنگ کے نتیجے میں پاکستان کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد اضافہ اور پاکستانی روپے کی قدر میں 2022ء کے دوران تقریباً 30 فیصد کمی شامل ہے- روس اور یوکرین عالمی گندم کی 25 فیصد سپلائی فراہم کرتے ہیں، لیکن جنگ کے باعث برآمدات متاثر ہوئیں، جس سے پاکستان میں گندم کی قیمتوں میں 35 فیصد اضافہ ہوا- اس کے علاوہ، کھاد کی قلت نے زرعی پیداوار کو متاثر کیا، جس سے خوراک کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں- عالمی تجارتی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی برآمدات (خصوصاً ٹیکسٹائل) متاثر ہوئیں، جس نے تجارتی خسارے کو بڑھا دیا- زرِمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باعث پاکستان کو آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں پر زیادہ انحصار کرنا پڑا، جبکہ توانائی بحران اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے صنعتی پیداوار اور عام صارفین کو مزید مالی بوجھ میں ڈال دیا- ان معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو متبادل تجارتی شراکت داروں، توانائی کے نئے ذرائع اور زرعی اصلاحات پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے عالمی بحرانوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے -[15]
ٹرمپ ، زلنسکی تنازعہ اور امن کی راہ
ڈونلڈ ٹرمپ اور ولودیمیر زلنسکی کے درمیان تعلقات کا سفر کبھی ہموار نہیں رہا- 21 اپریل 2019ء کو جب زلنسکی یوکرین کے صدر منتخب ہوئے، تو ٹرمپ نے فون کر کے انہیں مبارکباد دی- لیکن یہ خوشگوار آغاز جلد ہی تلخی میں بدل گیا، جب 25 جولائی 2019 ءکو ایک فون کال کے دوران اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولودیمیر زلنسکی سے مطالبہ کیا کہ وہ جو بائیڈن (جو اُس وقت ٹرمپ کے سیاسی حریف تھے) اور ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے یوکرین میں کاروباری معاملات کی تحقیقات کریں- یہ معاملہ بعد میں ٹرمپ کے پہلے مواخذے کی بنیاد بنا، کیونکہ الزام لگایا گیا کہ ٹرمپ نے ذاتی سیاسی فائدے کیلیے یوکرین پر دباؤ ڈالا ہے- [16]
24 فروری 2022ء کو جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا، تو صورتحال اور گھمبیر ہو گئی- 2025ء میں ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد، انہوں نے یوکرین کے ساتھ اپنا رویہ بدل لیا- 28 فروری 2025ء کو وائٹ ہاؤس میں ایک عوامی ملاقات کے دوران، ٹرمپ نے زلنسکی پر بے ادبی اور ’’تیسری عالمی جنگ سے کھیلنے‘‘ کا الزام لگایا- اس ملاقات میں زلنسکی نے واضح کہا کہ :
’’ہم روسی صدر پیوٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کیلئے تیار نہیں ہیں- ہم اپنی آزادی کی قیمت پر کوئی سودا نہیں کریں گے ‘‘- [17]
اس ملاقات کے بعد، 3 مارچ 2025ء کو ٹرمپ نے یوکرین کے لیے دی جانے والی امریکی فوجی امداد کو روکنے کا اعلان کیا- یہ فیصلہ زلنسکی کے لیے بڑا دھچکا تھا، کیونکہ یوکرین روس کے خلاف لڑائی کے لیے امریکا کی امداد پر انحصار کرتا ہے- ٹرمپ نے کہا کہ اگر یوکرین امن مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہوا تو امریکا اپنی امداد جاری نہیں رکھے گا -[18]
اگرچہ کشیدگی برقرار رہی، لیکن 4 مارچ 2025ء کو زلنسکی نے ایک بیان میں اس ملاقات کو ’’افسوسناک‘‘قرار دیا اور کہا کہ وہ ٹرمپ کی ’’مضبوط قیادت‘‘ میں دیرپا امن کے لیے تیار ہیں- زلنسکی نے واضح کیا کہ وہ مذاکرات کے حق میں ہیں، مگر یوکرین کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا -[19]
بات چیت کے دوران، زلنسکی نے جنگ بندی کے لیے عملی تجاویز پیش کیں جن میں قیدیوں کی رہائی، میزائل اور ڈرون حملوں پر پابندی اور سمندری راستوں پر جنگ بندی شامل ہے، بشرطیکہ روس بھی ایسا کرے- ٹرمپ کی جانب سے بھی عندیہ دیا گیا کہ اگر روس تیار ہو تو 30 دن کی جنگ بندی ممکن ہے، جس پر انہوں نے صدر پوٹن سے جلد بات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا - [20]
آخر میں، اگرچہ دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، لیکن 4 مارچ 2025ء کو زلنسکی کے بیان اور ٹرمپ کے کانگریس سے خطاب کے بعد یہ تاثر ملا کہ دونوں کسی نہ کسی سطح پر تعاون کے لیے تیار ہیں- ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اگر روس بھی متفق ہو جائے تو سیز فائر پر عملدرآمد جلد شروع ہو سکتا ہے اور زلنسکی کو دوبارہ وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی- تاہم، یوکرین کو اب بھی خدشہ ہے کہ اس پر ایک کمزور معاہدہ مسلط کیا جا سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد کوئی حل نکالا جائے- ان دونوں کے تعلقات نہ صرف امریکہ-یوکرین تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ اس بڑے عالمی مسئلے کی تصویر بھی ہیں جو روس-یوکرین جنگ کے باعث دنیا کے امن کو لاحق ہے - [21]
روس-یوکرین جنگ میں سعودی کردار :
سعودی عرب، جو یوکرین سے 2000 میل دور ہے اور سیاسی طور پر بھی کافی فاصلے پر ہے، لیکن روس-یوکرین جنگ میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے- 10 مارچ 2025ء کو، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زلنسکی اور امریکی وفد کے درمیان اہم مذاکرات کی میزبانی کی- امریکی وفد کی قیادت سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر مائیک والٹز کر رہے تھے- اگلے دن، سعودی عرب نے امریکی اور یوکرینی وفود کے درمیان براہ راست مذاکرات کا اہتمام کیا- اس کے نتیجے میں ایک معاہدہ [22]سامنے آیا جو اب ماسکو میں زیر غور ہے- یہ معاہدہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے کچھ ہفتے قبل وائٹ ہاؤس میں زلنسکی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے درمیان مذاکرات ناکام ہو گئے تھے -[23]
14 مارچ کو، روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ وہ اصولی طور پر اس معاہدے سے متفق ہیں، لیکن تفصیلات پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے- اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو امکان ہے کہ اس پر سعودی عرب میں دستخط ہوں گے، کیونکہ سعودی عرب نے نہ صرف یوکرین اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی ہے بلکہ اس سے قبل روس اور امریکہ کے درمیان بھی اہم مذاکرات کا اہتمام کیا ہے -[24]
سعودی عرب نے جنگ کے آغاز سے ہی روس اور یوکرین دونوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھے ہیں- مثلاً 2022ء میں، اوپیک پلس کے رکن ممالک، جن میں سعودی عرب اور روس شامل ہیں، نے تیل کی پیداوار میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کمی کا فیصلہ کیا- اس اقدام کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم کرنا تھا، لیکن اس کا سب سے زیادہ فائدہ روس کو ہوا، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے اس کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا، جس نے مغربی پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دی- مزید برآں، 2023ء میں سعودی عرب نے اپنی تیل کی پیداوار میں مزید کمی کا اعلان کیا، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا اور روس کی معیشت کو مزید استحکام ملا- تاہم، کچھ ہی مہینوں بعد، سعودی عرب نے یوکرین کے صدر زلنسکی کو جدہ میں منعقدہ عرب لیگ کے اجلاس سے خطاب کرنے کی دعوت دی، جس سے ظاہر ہوا کہ سعودی سفارت کاری یک طرفہ نہیں بلکہ متوازن ہے- یہ اقدام 2023ء میں ہونے والے اس بین الاقوامی اجلاس کا پیش خیمہ ثابت ہوا، جہاں 40 ممالک کے نمائندوں نے یوکرین جنگ پر بات چیت کی اور ممکنہ امن حل پر غور کیا - [25]
سعودی عرب کی یوکرین جنگ میں ثالثی کی کوششیں اس کی علاقائی اور عالمی سفارتی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ہیں- اگرچہ اس کے نتائج ابھی واضح نہیں ہیں، لیکن سعودی عرب کی یہ کوششیں اسے عالمی سفارتی منظر نامے پر ایک اہم ملک کے طور پر پیش کرتی ہیں - [26]
پیوٹن کی جنگ بندی کی شرائط:
جنگ بندی سے متعلق معاہدے[27] پر پیوٹن نے کہا کہ :
’’ایسے مسائل ہیں جن پر ہمیں بات چیت کرنے کی ضرورت ہے، اور میرا خیال ہے کہ ہمیں اس بارے میں اپنے امریکی ساتھیوں اور شراکت داروں سے گفتگو کرنی چاہیے، اور ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ سے بھی رابطہ کر کے اس پر تبادلہ خیال کرنا چاہیے‘‘-
صدر پیوٹن کی جنگ بندی سے متعلق واضح شرائط میں یوکرین کی غیر جانبداری، نیٹو میں شمولیت پر پابندی اور روسی سرحدوں کے قریب کسی بھی مغربی عسکری موجودگی کا خاتمہ شامل ہے- جنگ کے دوران حاصل کیے گئے علاقوں، بشمول ڈونباس، زاپوریزہیا اور خیرسون، پر مکمل روسی کنٹرول کو تسلیم کرنا ضروری قرار دیا جائے- مغربی اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ بھی بنیادی شرط ہے، تاکہ روس کی معیشت پر دباؤ کم ہو- یوکرین کو مغربی اسلحے کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کیاگیا ہے، تاکہ مستقبل میں کسی ممکنہ خطرے کا سدباب ہو سکے- اس کے علاوہ، بحیرہ اسود اور بحیرہ ازوف پر روسی کنٹرول برقرار رکھنا بھی ایک اہم شرط ہے، تاکہ خطے میں روس کی اسٹریٹجک برتری یقینی بنائی جا سکے - [28]
اختتامیہ :
روس-یوکرین جنگ نے دنیا کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں- یہ جنگ محض دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ ایک ایسا بحران بن چکی ہے جس نے عالمی معیشت، توانائی، خوراک کی فراہمی اور عالمی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور کہیں نہ کہیں اسے تیسری عالمی جنگ کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے - اس جنگ کے نتیجے میں عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹ اور لاکھوں افراد کی ہجرت جیسے سنگین مسائل پیدا ہوئے- روس نے اپنی جغرافیائی سلامتی کو خطرے میں دیکھتے ہوئے جارحانہ حکمت عملی اختیار کی، جبکہ یوکرین نے اپنی آزادی اور خودمختاری کے لیے شدید مزاحمت کی- مغربی دنیا، خصوصاً امریکہ اور یورپی یونین نے یوکرین کی حمایت میں کھل کر فوجی، مالی اور سفارتی امدادکی، جس نے جنگ کو مزید طول دیا- دوسری طرف، روس پر اقتصادی پابندیوں نے اس کی معیشت کو متاثر تو کیا، مگر جنگ کو روکنے میں ناکام رہیں-
ڈونلڈ ٹرمپ اور زلنسکی کے تعلقات نے اس تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جہاں ٹرمپ نے یوکرین پر امریکی امداد مشروط کر دی اور زلنسکی کے مؤقف کو چیلنج کیا- خاص طور پر، ٹرمپ کی طرف سے بعض شرائط، جیسے یوکرین میں موجود قیمتی معدنیات، جن میں لیتھیم اور ٹائٹینیم شامل ہیں، کی دریافت اور نکالنے کے معاہدے کو امداد کے بدلے رکھنا، اس معاملے کو مزید متنازعہ بنا گیا- یوکرین کے پاس یورپ کے سب سے بڑے معدنی ذخائر میں شامل یہ عناصر جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرانکس میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، جن کا کوئی معروف متبادل نہیں ہے -[29] ایسے میں امریکی حمایت کو معدنی وسائل سے جوڑنے کی کوشش نے اس جنگ میں اقتصادی مفادات کے عنصر کو مزید نمایاں کر دیا-
یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ امریکی داخلی سیاست بھی اس عالمی بحران پر اثر انداز ہو رہی ہے- سعودی عرب جیسے ممالک کی ثالثی کی کوششوں سے وقتی پیش رفت ضرور ہوئی، مگر پائیدار حل اب تک ممکن نہیں ہو سکا- مجموعی طور پر، اس جنگ نے واضح کر دیا کہ عالمی طاقتوں کے باہمی مفادات اور جغرافیائی سیاست کس طرح عالمی امن اور انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں- اگر یہ جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو عالمی اقتصادی بحران، انسانی المیہ اور علاقائی عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے- لہٰذا، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ سفارتی حل، مذاکرات اور پائیدار سیزفائر کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے تاکہ اس تباہ کن جنگ کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے
٭٭٭
[1]House of Commons Library. Conflict in Ukraine: A Timeline (Current Conflict, 2022-Present). Research Briefing CBP-9847, UK Parliament, February 5, 2024.
https://researchbriefings.files.parliament.uk/documents/CBP-9847/CBP-9847.pdf.
[2]وہ ممالک ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سوویت یونین کے -یرِ اثر تھے اور کمیونسٹ نظام حکومت کے تحت چل رہے تھے۔ یہ ممالک سرد جنگ کے دوران مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ اور نیٹو، کے مخالف سمجھے جاتے تھے۔جن میں سوویت یونین، مشرقی جرمنی، پولینڈ، چیکوسلواکیہ، ہنگری، رومانیہ، بلغاریہ اور البانیہ شامل ہیں۔
[3]Bukhari, Syed Rizwan Haider, Amir Ullah Khan, Shabana Noreen, Mr Tehsin Ullah Khan, Mr Nasir Khan, and Mr Inam Ul Haq. "Ukraine and Russia: A historical analysis of geopolitical dynamics, national identity, and conflict escalation leading to the present-day crisis." Kurdish Studies 12, no. 2 (2024): 5803-5824.
[4]US, allies sanction Russia over Ukraine." Dawn, February 23, 2022. https://www.dawn.com/news/1676653.
[5]BBC News. "Ukraine Conflict: Why Is Russia Invading and What Does Putin Want?" BBC News, March 7, 2022.
[6]UN News. "March 2, 2022 Resolution." Last modified March 2, 2022. https://news.un.org/en/story/2022/03/1113152. UN News. "March 2, 2022 Resolution." Last modified March 2, 2022. https://news.un.org/en/story/2022/03/1113152.
[7]UN News. "October 12, 2022 Resolution." Last modified October 12, 2022.
[8]United Nations General Assembly. "February 23, 2023 Resolution." Last modified February 23, 2023.
[9]Smith, Nicholas Ross, and Grant Dawson. "Mearsheimer, realism, and the Ukraine war." Analyse & Kritik 44, no. 2 (2022): 175-200.
[10]Army Tactical Missile System جو -مین سے -مین پر داغا جاتا ہے اور اہم اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
[11]BBC News. "Putin Declares Russia Could Launch Nuclear Strike in Response to Conventional Attack | BBC News." YouTube video, 20 Nov 2024. https://youtu.be/oYiT_H13Vio
[12]International Monetary Fund. "The Long-Lasting Economic Shock of War." Finance & Development, March 2022.
https://www.imf.org/en/Publications/fandd/issues/2022/03/the-long-lasting-economic-shock-of-war.
[13]ایک معاہدہ تھا جو اقوام متحدہ اور ترکیہ کی ثالثی سے جولائی 2022 میں طے پایا، جس کا مقصد روس-یوکرین جنگ کے دوران یوکرین کی بحری بندرگاہوں سے محفوظ طریقے سے گندم اور دیگر -رعی اجناس کی برآمدات کو بحال کرنا تھا تاکہ عالمی غذائی بحران کو روکا جا سکے-
[14]Economics Observatory. "Ukraine: What’s the Global Economic Impact of Russia’s Invasion?" Economics Observatory, last modified February 2024.
https://www.economicsobservatory.com/ukraine-whats-the-global-economic-impact-of-russias-invasion.
[15]Hasnain, Shahbaz. "RUSSIA-UKRAINE WAR ECONOMIC IMPACT ON PAKISTAN." Sociology & Cultural Research Review 3, no. 01 (2025): 326-341.
[16]BBC News. "Ukraine President Zelensky and Trump: Timeline of relations."
[17]CNN. "Zelensky-Trump Argument: What Really Happened in White House Meeting."
https://edition.cnn.com/2025/03/04/europe/zelensky-trump-argument-comment-ukraine-intl/index.html
[18]Washington Post. "Trump pauses Ukraine aid over negotiation demands."
https://www.washingtonpost.com/world/2025/03/04/trump-ukraine-aid-pause-reaction/
[19]New York Times. "Trump and Rutte Talks, and Ukraine Ceasefire Hopes."
https://www.nytimes.com/2025/03/13/us/politics/trump-rutte-zelensky-ukraine-ceasefire.html
[20]The Telegraph. "Ukraine-Russia War and US Ceasefire Proposals."
https://www.telegraph.co.uk/world-news/2025/03/11/ukraine-russia-war-latest-news-ceasefire-talks-us/
[21]BBC News. "Ukraine Conflict: Why Is Russia Invading and What Does Putin Want?" BBC News, March 7, 2022.
[22]U.S. proposal to enact an immediate, interim 30-day ceasefire
[23]Zelenskiy Heads to Saudi Arabia Ahead of Crunch US Talks," Reuters, March 10, 2025,
https://www.reuters.com/world/zelenskiy-heads-saudi-arabia-ahead-crunch-us-talks-2025-03-10/.
[24]Putin, Saudi Crown Prince Discuss OPEC+ Agreements, Ukraine Crisis in Call," Reuters, March 14, 2025,
[25]Samuel Ramani, "Saudi Arabia's Role as Ukraine War Mediator Advances Gulf Nation's Diplomatic Rehabilitation and Boosts Its Chances of a Seat at the Table Should Iran-US Talks Resume," The Conversation,
[26]Cathrin Schaer, "Saudi Arabia Rebrands as Mediator for Global Crises," DW, February 2024,
https://www.dw.com/en/saudi-arabia-rebrands-as-mediator-for-global-crises/a-71875311.
[27]U.S. proposal to enact an immediate, interim 30-day ceasefire
[28]Al Jazeera. "What Are Putin's Conditions for a Ceasefire in Ukraine?" Al Jazeera, March 14, 2025.
https://www.aljazeera.com/news/2025/3/14/what-are-putins-conditions-for-a-ceasefire-in-ukraine.
[29]Independent Urdu. "ٹرمپ نے یوکرین کی معدنی دولت پر نظر جما لی؟" Independent Urdu, March 16, 2025.