رات کی تاریکی نہ صرف قدرت کا ایک مظہر ہے بلکہ یہ انسانی زندگی میں درپیش مشکلات اور آزمائشوں کی بھرپور عکاسی بھی کرتی ہے-
ہر مشکل رات کے بعد ایک صبح آتی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ زندگی میں کوئی غم یا تکلیف دائمی نہیں- اہل ایمان کا یقین ہے کہ آزمائشیں وقتی ہیں اور ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی حکمت کارفرما ہوتی ہے- یہ فلسفہ زندگی کے ہر پہلو پر منطبق ہوتا ہے- اگر ہم رات کو تکلیف اور صبح کو خوشی تصور کریں، تو معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی ہر تاریک گھڑی کے بعد ایک روشن مستقبل منتظر ہوتا ہے- یہ شعور انسان کو بے مقصد مایوسی سے نکال کر تعمیرِ نو کی طرف لے جاتا ہے-
اگر بنظر عمیق دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مایوسی نہ صرف ایک ذہنی کیفیت ہے بلکہ یہ انسان کی فکری ترقی، علمی جستجو اور روحانی عرفان کا بھی زوال ہے- ایک ناامید انسان اپنی ذات، معاشرہ اور رب سے رشتہ توڑ لیتا ہے، جو اس کی شخصیت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے- اس لئے در حقیقت امید ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو کامیابیوں کی راہ پر گامزن کرتا ہے- اگر مومن اپنی ذات اور اللہ پر بھروسہ رکھے تو وہ کسی بھی مشکل کا سامنا کر سکتا ہے اور علم و عرفان کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے-
ناامیدی کو اسلام میں کفر کے قریب شمار کیا گیا ہے کیونکہ یہ اللہ کی رحمت اور قدرت پر ایمان کمزور کرنے کا باعث بنتی ہے- قرآن کریم اور سنّت مبارکہ میں کئی مقامات پر ناامیدی کی مذمت کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ ط اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا‘‘[1]
’’اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، یقیناً اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے‘‘-
ایک اور مقام پر مایوسی کو کفر سے جوڑا گیا ہے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ:
’’اِنَّہٗ لَا یَایْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوْنَ‘‘[2]
’’اللہ کی رحمت سے صرف کافر ہی ناامید ہوتے ہیں‘‘-
ایک مقام پر تو ناامیدی شیطان کا حربہ قرار دیا ہے :
’’قَالَ وَمَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَۃِ رَبِّہٖٓ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ‘‘[3]
’’اللہ کی رحمت سے صرف گمراہ لوگ ہی مایوس ہوتے ہیں‘‘-
احادیث مبارکہ میں بھی متعدد جگہوں پر نا امیدی سے بچنے کی تلقین کی ہے -
حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا:
’’جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں لکھا:میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے‘‘-[4]
حضرت جابر(رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:
’’تم میں سے کوئی شخص موت کے وقت اللہ سے حسنِ ظن کے بغیر نہ ہو‘‘-[5]
شکر گزاری اور امید کے پہلو کو اگر سیرتِ نبوی (ﷺ) کی روشنی میں دیکھا جائے تو حضور نبی کریم (ﷺ) کی حیاتِ طیبہ میں مکہ مکرمہ کے دور کی مشکلات اور مدینہ منورہ میں ملنے والی کامیابیاں ہمارے لیے ایک روشن مثال ہیں- مکی دور آزمائشوں کا دور تھا، جہاں کفارِ مکہ نے آپ (ﷺ) اور آپ کے ساتھیوں پر بے شمار مظالم ڈھائے- ہر طرف تکلیفیں، محرومیاں اور معاشرتی بائیکاٹ تھا، لیکن اس کے باوجود آقا کریم (ﷺ)نے شکر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا- آپ (ﷺ) کی زبان پر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا جاری رہتی اور ان مشکلات کے باوجود آپ (ﷺ)نے اپنی قوم کے لیے دعا کی- یہ عملی نمونہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب حالات سخت ہوں، تب بھی اللہ کے فضل اور رحمت سے امید قائم رکھنی چاہیے اور ہر حال میں شکر ادا کرنا چاہیے، کیونکہ اللہ کا نظام آزمائش کے بعد انعام کی نوید دیتا ہے-
مدینہ منورہ کا دور اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ شکر گزاری اور امید کبھی رائیگاں نہیں جاتی- مکہ کی آزمائشوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ (ﷺ) کو مدینہ میں ایک آزاد معاشرہ عطا کیا، جہاں آپ کو حکمرانی، کامیابیاں اور سکون نصیب ہوا- اللہ تعالیٰ نے وہ فتح اور عزت عطا کی جس کا مکہ میں تصور بھی مشکل تھا- اس دور میں بھی آپ (ﷺ) کی عاجزی اور شکر گزاری مزید بڑھ گئی، اور فتح مکہ کے موقع پر آپ کا سر عاجزی سے جھکا ہوا تھا- یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کامیابی کے بعد بھی شکر گزاری نہ بھولیں اور اپنی امید کو اللہ تعالیٰ سے جوڑے رکھیں- سیرت طیبہ کا یہ پہلو ہمیں درس دیتا ہے کہ ہمیشہمشکلات میں شکر اور امید کا دامن تھامے رہیں، کیونکہ اللہ کے وعدے سچے ہیں اور وہ ہر مشکل کے بعد آسانی عطا فرماتا ہے-
قرآن کریم اور سنّت مبارکہ ہمیں مایوسی سے بچنے اور کامل یقین کا سبق دیتے ہیں، وہی سبق قدرت کے مظاہر بھی ہمیں جا بجا سمجھا رہے ہوتے ہیں جس کا شعور ذرا ساغور و فکر سے بھی حقیقت کو تلاش کرنے والوں کو ہو جاتا ہے-مثلاً رات کی تاریکی انسان کی مشکلات، تکالیف اور آزمائشوں کی مانند ہے- یہ رات جتنی بھی طویل ہو، اس کا کٹنا دشوار تو ہے لیکن ناممکن نہیں- اندھیرا ایک دم روشنی میں تبدیل نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق مراحل طے کرتا ہے- اسی طرح غم اور مشکلات بھی وقت کے ساتھ اور اللہ کی مدد سے ختم ہو جاتی ہیں- سورج یہاں امید کی مثال ہے، جو اپنے مقررہ وقت پر طلوع ہو کر رہتا ہے- دنیا کی کوئی طاقت اسے ابھرنے سے روک نہیں سکتی-
سورج کی روشنی تمام دنیاوی روشنیوں کو ماند کر دیتی ہے- یہ غفلت کی نیند سونے والوں کو جگاتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ رات گزر گئی اور ایک نئے دن کا آغاز ہو چکا ہے- یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دنیا کی دشواریوں کو برداشت کرنے کے لیے ہم بھی سورج جیسی روشن اور بلند امیدیں اپنے رب سے وابستہ کریں-
امید انسان کو سہارا دیتی ہے کہ جب کانٹا دیکھے تو پھول بھی نظر آئے، اور تیز دھوپ میں سائے کی ٹھنڈک محسوس کرے- امید ہر شئے کو بہتر وقت کی نوید میں تبدیل کر دیتی ہے اور اندھیری راتوں میں بھی ایک روشنی کی کرن دکھاتی ہے، جو انسان کو اپنے رب کے قریب تر کرتی ہے-بقول علامہ محمد اقبال :
نہ ہو نومید، نومیدی زوال علم و عرفاں ہے |
٭٭٭
[1](الزمر:53)
[2](یوسف: 87)
[3](الحجر: 56)
[4](صحیح بخاری، رقم الحدیث: 3194)
[5](صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2877)