نام و نسب :
آپ کانام یحیی، کنیت ابو سعید اور نسب نامہ کچھ اس طرح سےہے یحیی بن زکریا بن ابی زائدہ-[1]
ولادت و وطن :
آپ کی ولادت تقریبا سن 120ھ میں کوفہ میں ہوئی کیونکہ آپ نے کوفہ میں نشوونما پائی اور یہیں بودوباش اختیار کیے رکھی تو اُن کو اس نسبت سے الکوفی کہاجاتاہے اور ایک قبیلہ ہمدان بن اوسلہ جو کہ یمن سے آکرکوفہ میں آباد ہوگیا تھا - اُس سے ولاء کی نسبت ہونے کی وجہ سے اُن کو الہمدانی بھی کہا جاتا ہے-[2]
تحصیل علم و اساتذہ :
امام صاحب نے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی تھی- آپ کے والد ایک نامور محدث اور کوفہ کے قاضی بھی رہے -آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والدمحترم سے پائی لیکن جب آپ نےعلم حدیث کا باقاعدہ آغاز کیا تو امام ذہبی نے لکھا ہےکہ: انہوں نے اپنے والد سے بھی سماع کیا ہے- کیونکہ آپ نے علمی ارتقاء کا زمانہ پایاہے اُس وقت بڑے جلیل القدر اور آئمہ فن موجود تھے اس لیے آپ نے اپنے عہد کے مایہ ناز علمی شخصیات سے علم حاصل کیا-اُن کو جن شخصیات سے اکتساب فیض کا موقع ملاہے اُن کی تعداد توبہت زیادہ ہےلیکن اُن میں سے چند مشہوردرج ذیل ہیں:
زکریا بن ابی زائدہ، اسحاق بن ابراہیم الثقفی، اسرائیل بن یونس، اسماعیل بن ابی خالد، حارثہ بن ابی الرجال ،حجاج بن ارطاۃ ، حریث بن ابی مطر، حسن بن عیاش، حسین بن حارث الجدلی، خالد بن سلمۃ المخزومی، سفیان بن عیینہ، سلیمان الاعمش، امام شعبہ بن الحجاج، عاصم الاحول، عبد اللہ بن عون، عبدالرحمن بن سلیمان، عبد العزیز بن عمر، عبدالملک بن حمید ،عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج، عبداللہ بن عمر العمری، عکرمۃ بن عمار، عمروبن میمون، العلاء بن مسیب، عیسی بن دینار الخزاعی ،لیث بن ابی سلیم، مالک بن انس، مجالدبن سعید،محمد بن اسحاق،محمد بن ابی قاسم الطویل، مسعر بن کدام، منصوربن حیان، نافع بن عمر، ہشام بن عروۃ، ورقاء بن عمر، یحیی بن سعید الانصاریؒ - [3]
تلامذہ :
جن شخصیات کو امام صاحب سے اکتساب علم کا موقع ملاہے اُن میں سے چند مشہور درج ذیل ہیں :
ابراہیم بن موسیٰ الفراء، امام احمد بن حنبل ،احمدبن منیع البغوی،اسدبن موسی،اسماعیل بن ابان،حسن بن عرفۃ، حسین بن علی الکوفی، داود بن رشید، زیادبن ایوب الطوسی، سہل بن عثمان، سوید بن سعید، شجاع بن مخلد، عبداللہ بن رجاء، عبداللہ بن عامر، عبد اللہ بن محمدبن محمد بن ابی شیبہ، عبدالرزاق بن عمر، علی بن سعید بن مسروق، علی بن المدینی، علی بن مسلم الطوسی، عمرو بن رافع، قتیبہ بن سعید،محمدبن آدم، محمد بن سعید الاصبہانی ، یحیی بن آدم، یحیی بن معین، معلی بن منصور الرازی، ابو کریب محمد بن العلاء، محمد بن عیسی، محمد بن یزید الواسطی، یزیدبن خالد، یعقوب بن ابراہیمؒ -[4]
آئمہ فن کی توثیقات وآراء:
امام یحیی علم کےمیدان کے شاہکار اور ایک نامور امام فن تھے- آپ اپنے عہد کے علماء و محد ثین میں ایک نمایاں مقام رکھتےتھے- علمی کمال اس پائے کا تھا کہ اصحاب سیر الحافظ العالم، الثبت المتقن اور الحجۃ جیسے القابات سے اُن کو یاد کرتے ہیں-گویاکہ امام صاحب علماء کے ماتھے کا جھومر تھے- اسی بناپر نامور آئمہ جرح و تعدیل اور محدثین نے مختلف انداز میں اُن کی توثیق کرکے اُن کے مستند اور مسلمہ شخصیت ہونے پر مہر ثبت کردی ہے- نامور امام فن علی بن مدینی آپ کے بارے فرماتے ہیں :
’’امام یحیی بن ابی زائد ہ ثقات میں سے ہیں ‘‘-[5]
امام یحیی بن معین کہ جن کا شمار جلیل القدر آئمہ جرح و تعدیل میں ہوتاہے ،وہ اُن کے بارے فرماتے ہیں :
’’ابن ابی زائدہ ثقۃ ‘‘[6] ’’ابن ابی زائدہ ثقہ ہیں‘‘-
امام نسائی امام صاحب کی توثیق وعدالت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’کان ثقۃ ثبت ‘‘[7] ’’وہ ثقہ اور ثبت تھے ‘‘-
امام الجرح و التعدیل ابو حاتم الرازی اُن کی ثقاہت کچھ اس انداز میں بیان فرماتےہیں :
’’وہ مستقیم الحدیث اور ثقہ تھے ‘‘-[8]
امام ذہبی ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘ میں امام علی بن مدینی کا ایک قول اُن کے بارے نقل فرماتے ہیں کہ :
’’امام علی بن مدینی نے کہا کہ کوفہ میں سفیان ثوری کے بعد اُن سے اثبت کوئی نہ تھا اور اسی طرح یہ بھی کہاہے کہ یحیی بن ابی زائدہ کے زمانے میں علم کی انتہاء اُن پر ہوگئی ہے ‘‘-[9]
علامہ عبدالحی الحنبلی شذرات الذہب میں فرماتے ہیں :
’’وکان ثبتامتقناً‘‘ [10] ’’ وہ ثبت اور متقن تھے-
آئمہ کرام کے مذکورہ اقوال اور توثیقات وآراء سے یہ بات ثابت ہوتی ہےکہ امام یحیی بن زکریا کوئی معمولی شخصیت نہیں تھے بلکہ ثقاہت و عدالت کے اُس اونچے مرتبے پر فائز تھے کہ علمی میدان میں اُن کو حجت تسلیم کیا جاتا تھا-
علم حدیث میں مقام ومرتبہ :
امام یحیی بن زکریا علم حدیث کے بڑے ماہر تھے -اُن کا شمار کوفہ کے حفاظ محدثین میں ہوتا تھا- آپ نے ساری زندگی حفظ حدیث اور اشاعت حدیث میں صرف کردی حتیٰ کہ حدیث میں ایسا کمال حاصل کیا کہ امام ذہبی علامہ زیادبن ایوب کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ :
’’وہ حدیث کو زبانی بیان فرماتے تھے‘‘ -[11]
علامہ یعقوب السدوسی حدیث میں اُن کی علمی شان بیان کرتے ہُوئے ارشاد فرماتے ہیں :
’’وہ ثقہ اور حسن حدیث والے تھے ‘‘-[12]
حدیث کی ترویج و اشاعت کا ایسا شوق و جذبہ تھا کہ امام ذہبی فرماتے ہیں :
’’ وہ علم کو پھیلانے والوں میں سے تھے ‘‘-[13]
نامور محدث سفیان بن عیینہ امام صاحب کی علمی وجاہت کو بیان کرتےہُوئے ارشاد فرماتے ہیں:
’’ہم پر ان دوشخصیات عبداللہ بن مبارک اور یحیی بن زکریابن ابی زائدہ جیسا کوئی نہیں آیا ‘‘-[14]
جس انداز میں اسماعیل بن حماد بن ابی حنیفہ نے حدیث میں اُن کی علمی وجاہت کو بیان کیا ہے اُس سے اُ ن کی علمی شان مزید نکھر کر سامنےآجاتی ہے وہ فرماتےہیں کہ:
’’امام یحیی حدیث میں خوشبودار دلہن کی طرح تھے ‘‘-[15]
یعنی جس طرح دلہن خوشبوسے معطر ہو اُسے پسند کیا جاتا ہے اسی طرح امام صاحب کا حدیث سے اتنا گہرہ تعلق تھا گویا کہ وہ حدیث سے معطر تھے اور انہیں علمی حلقوں میں پسند کیا جاتا تھا-
فقہی مہارت :
امام صاحب ایک عظیم محدث ہونے کے ساتھ فقہ میں بھی مہارت تامہ رکھتے تھے ،اُن کا شمار کوفہ میں فقہاءمحد ثین میں ہوتا تھا -فقہ میں گہری بصیرت رکھنے کی وجہ سے نہ صرف مدائن میں قاضی رہے بلکہ کوفہ کے مفتی بھی تھے،اسی حقیقت کو امام عجلی نے کتاب الثقات میں بیان کیا ہے :
’’وہ اُن شخصیات میں سے تھے جو فقہ اور حدیث کی جامع تھیں وہ مدائن میں قاضی بھی رہے وہ کوفہ کے حفاظ محدثین میں شمار ہوتے تھے وہ مفتی اور صاحب سنت تھے‘‘-[16]
علامہ ذہبی اُن کی فقاہت پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتےہیں:
اُن کا شمار کوفہ میں فقہاء محدثین میں ہوتاتھا-[17]
فقہی مسلک:
آپ مسلکا حنفی تھے اُن کا شمار امام ابو حنیفہ کے جید تلامذہ میں ہوتا ہے امام صاحب نے امام اعظم ابو حنیفہ سے تفقہ بھی حاصل کیا اور مستقل طور پر اُن کے مذہب پر رہے اس بات کی تائید بہت سے سیرت نگاروں نےکی ہے -
علامہ ذہبی تاریخ الاسلام میں فرماتےہیں :
’’انہوں نے فقہ امام اعظم ابو حنیفہ سے حاصل کی ،کافی عرصہ اُن کی صحبت اختیار کیے رکھی یہاں تک کہ رائے یعنی اجتہاد میں ماہر ہوگئے اور اُن کا شمار امام صاحب کے اکابر اصحاب میں ہونے لگا‘‘-[18]
امام صمیری اُن کو امام اعظم کے اصحاب میں ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتےہیں :
’’اسی طرح امام ابو حنیفہ کے اصحاب میں سے یحیی بن زکریا بن ابی زائدہ بھی ہیں‘‘-[19]
اسی طرح امام عبدالبرقرطبی نے امام اعظم ابو حنیفہ سے اکتساب علم کرنے والوں کے ناموں میں اُن کا بھی تذکرہ کیا ہے-
امام عبدالقادر الحنفی نے اپنی مشہور کتاب ’’الجواہر المضیۃ فی طبقات الحنفیۃ‘‘ میں اُن کا تذکرہ فرمایا ہےاور علامہ عبدالحی الحنبلی شذرات الذہب میں فرماتےہیں:
’’وہ امام اعظم ابو حنیفہ کے اصحاب میں سے تھے ‘‘-[20]
تصنیفات :
امام صاحب ایک عظیم محدث وفقیہ ہونے کے ساتھ ایک مایہ ناز مصنف بھی تھے آپ نے بہت سی کتب تصنیف فرمائیں امام ذہبی فرماتےہیں :
’’وہ ایک بہت بڑے امام اور صاحب تصانیف تھے ‘‘-[21]
امام ابن حاتم نے تو یہاں تک لکھا ہے :
’’یہ وہ پہلے شخص ہیں کہ جنہوں نے کوفہ میں کتب تصنیف فرمائیں ‘‘-[22]
اسی چیز کے پیش نظر امام بدرالدین عینی مغانی الاخیار میں فرماتے ہیں کہ امام یحیی امام اعظم کے اُن 40 اصحاب میں سے ہیں جنہوں نے خصوصی طور پر آپ سے کتب نقل فرمائیں پھر ان 40 میں سے 10جو جید اکابرین اور متقد مین میں شمار ہوتے ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہیں -
آپ اس پائے کے مصنف تھے کہ امام عجلی فرماتےہیں :
’’امام وکیع نے صرف امام یحیی بن ابی زائد ہ کی کتب پر اپنی کتب تصنیف فرمائیں ‘‘-[23]
الغرض! آپ ایک باکمال مصنف تھے انہوں نے بڑی مفید کتب تصنیف فرماکر تصنیفی خدمت سر انجام دی لیکن بد قستمی سے زیادہ تر اُن کی کتب ناپید ہوگئیں اور منظر عام پر نہ آسکیں اور جن کتب کا ذکر ملتا ہے وہ درج ذیل ہیں :
1-کتاب السنن فی الحدیث 2ـکتاب الشروط والسجلات [24]
وفات:
امام صاحب کی وفات 183ھ یا 184ھ کو مدائن میں ہوئی -–
٭٭٭
[2](تذکرۃ الحفاظ، جز:1، ص:196)
(سیراعلام النبلاء ،جز:7،ص:336)
[3](تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، جز:31، ص: 305)
[4](ایضاً،ص:307)
[5](الجرح والتعدیل ،جز:9،ص:145)
[6](ایضاً)
[7](سیر اعلام النبلاء ،جز:7،ص:337)
[8]( ایضاً)
[9]( تذکرۃ الحفاظ ،جز:1،ص:196)
[10]( شذرات الذہب ،جز:2،ص:366)
[11](سیراعلام النبلاء،جز:7،ص:337)
[12](ایضاً)
[13](ایضاً)
[14]( تہذ یب الکمال فی اسماء الرجال ،جز: 31، ص: 308)
[15]( ایضاً)
[16](تاریخ الثقات للعجلی،جز:1،ص:471)
[17](سیر اعلام النبلاء ،جز:7،ص337)
[18]( تاریخ الاسلام ،جز:12،ص:452)
[19]( اخبارابی حنیفۃ واصحابہ ،جز:1،ص: 156)
[20]( شذرات الذہب ،جز:2،ص:366)
[21]( تذکرۃ الحفاظ،جز:1،ص:196)
[22]( سیراعلام النبلاء،جز7،ص:337)
[23]( تاریخ الثقات للعجلی ،جز:1،ص:471)
[24]( معجم المولفین ،جز:13،ص:198)