’’اجر و ثواب کے لحاظ سے فقہ کا ایک مسئلہ سیکھنا ایک سال کی عبادت سے افضل ہے اور ایک دم کے لئے ذکرِ ’’اَللّٰہُ‘‘ میں مشغول رہنا ہزار مسائل ِ فقہ سیکھنے سے افضل ہے کہ مسائل ِفقہ کا علم اسلام کی بنیاد ہے‘‘-[1]
ہرمسلمان اللہ عزوجل کی توفیق سے اپنے طورپر نماز، روزے اوردیگر احکام ِ شرع کا اہتمام کرتا ہے لیکن یادرہے شریعت مطہرہ کا جو بھی حکم بجالایاجائے اس میں اگر سرور کائنات حضرت محمد مصطفٰے (ﷺ) کے فرامین مبارکہ اور اسوہ حسنہ کو سامنے نہ رکھاجائے تو اس کی عبادت کو رد کر دیا جاتا ہے- نماز میں بعض باتیں فرض ہیں جن کے بغیر نماز ہوگی ہی نہیں، بعض واجب ہیں جن کا جان بوجھ کر چھوڑنا گناہ اور توبہ کرنا اور نماز کا پھر سے پڑھنا واجب اور بھول کر چھوٹ جانے سے سجدۂ سہو واجب اور بعض باتیں سنّتِ مُؤَکَّدہ ہیں، جن کے چھوڑنے کی عادت بنا لینا گناہ ہے اور بعض مستحب ہیں جن کا کرنا ثواب اور نہ کرنا گناہ نہیں- اللہ پاک نےہمارے علماء کرام اورفقہائےعظام کو یہ شرف بخشا ہے کہ انہوں نے نہایت عرق ریزی سے فرامین مصطفٰے (ﷺ) کی روشنی میں احکام شرع کی درجہ بندی فرمائی-انہی کی سعی جمیلہ سے استفادہ کرتے ہوئے نماز کے مزید احکامات لکھنے کی سعی سعید کرتے ہیں -
وہ اوقات جن میں نماز ادا کرنا جائز نہیں:
حضرت عقبہ بن عامر(رضی اللہ عنہ) روایت فرماتے ہیں کہ :
’’سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے تین اوقات میں ہمیں نماز پڑھنے اور اپنے مردوں کو دفن کرنے سے منع فرمایا ہے- طلوع آفتاب کے وقت یہاں تک کی سورج خوب بلند ہو جائے، زوال ِآفتاب کے وقت یہاں تک کہ وہ ڈھل جائے اور غروب آفتاب کے وقت حتٰی کہ وہ غروب ہو جائے‘‘- [2]
وہ اوقات جن میں نفل پڑھنا مکروہ ہے:
’’فجر کے بعد نفل پڑھنا مکروہ ہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور عصر کے بعد بھی مکروہ ہے یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے- طلوعِ فجر کے بعد فجر کی رکعتوں سے زیادہ نوافل پڑھنا مکروہ ہے اور غروب شمس کے بعد فرض سے پہلے بھی کوئی شخص نفل نہ پڑھے اور جب امام خطبہ دینے کی لیے کھڑا ہو تو بھی نفل نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ امام خطبہ سے فارغ ہو جائے‘‘-[3]
نماز ادا کرنے کے مستحب اوقات:
’’نماز فجر کو اُجالے میں پڑھنا مستحب ہے اور موسم گرما میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈک میں پڑھنا(تاخیر سے پڑھنا) جبکہ موسم سرما میں اسے پہلے پڑھنا مستحب ہے اور گرمی سردی دونوں موسم میں عصر کو اس وقت تک مؤخر کرنا مستحب ہے جب تک کہ سورج متغیر نہ ہو کیونکہ ایسا کرنے میں نوافل کی زیادتی ہوگی، اس لیے کہ عصر کے بعد نوافل پڑھنا مکروہ ہے اور مغرب کی نماز کو جلدی پڑھنا مستحب ہے اور تہائی رات سے پہلے تک عشاء کی نماز کو مؤخر کرنا مستحب ہے اور آدھی رات تک عشاء کی نماز کو مؤخر کرنامباح ہےاور اس شخص کے لیے جسے رات کی نماز(نماز تہجد) سے محبت ہو، وتر رات کے آخری حصے میں ادا کرنامستحب ہے اور اگر اسے جاگنے پر بھروسہ نہ ہو تو وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے اور جب موسم ابر آلود(بادل چھائے ہوئے ہوں) ہو تو فجر،ظہر اور مغرب کی نمازوں میں نماز کو تاخیر سے اداکرنا مستحب ہے جبکہ عصر اور عشاء میں نمازکو جلدی ادا کرنا مستحب ہے‘‘- [4]
مفسداتِ نماز:
وہ امور جن کو نماز کے دوران کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور اسے نئے سرے سے اداکر نا لازم ہوتا ہے-
v نماز میں کلام کرنا جان بوجھ کر یا بھول کر-
v ایسے کلمات کے ساتھ دعا مانگنا جو ہمارے کلام سے مشابہ ہو-
v سلام کرنے کی نیت سے لفظ سلام کہنا اگرچہ بھول کر ہو-
v زبان یا مصافحہ کرتے ہوئے سلام کا جواب دینا -
v عملِ کثیر-
نوٹ: عمل کثیر نمازی کا ایسا عمل جسے دیکھنے والا نمازی کو نمازسے باہر تصور کرے جیساکہ نماز میں موبائل دیکھنا وغیرہ اور اس کے برعکس ہو تو عمل قلیل ہو گا)-
v قبلہ سے سینہ پھیرنا -
v کوئی چیز (اپنے منہ کے)باہر سے لے کر کھانا اگرچہ کم ہو-
v دانتوں کے درمیان جو کچھ رُکا ہوا ہے اسے کھانا جبکہ وہ کم از کم چنے کے برابر ہو-
v ( کوئی مشروب) پینا -
v کسی عذر کے بغیر کھانسنا-
v اف اف کرنا-
v آہ کرنا-
v کراہنا -
v درد یا مصیبت کی وجہ سے بلند آواز سے رونا- جنت اور دوزخ کے ذکر کی وجہ سے روئے تو حرج نہیں-
v چھینکنے والے کو یَرْحَمَکَ اللہُ کے ساتھ جواب دینا -
v شریک باری تعالیٰ کے بارے میں پوچھنے والے کو لا الہ الا اللہ کے ساتھ جواب دینا -
v بری خبر سن کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا-
v خوشخبری سن کر الحمدللہ کہنا -
v تعجب خیز خبر سن کر لا الہ الا اللہ یا سبحان اللہ کہنا-
v ہر وہ کلام جس کے ساتھ جواب دینا مقصود ہو جیسے
’’یٰحی خذالکتاب‘‘ ’’اے یحیٰ کتاب پکڑ‘‘-
v موزوں پر مسح کرنے والے کی مدت مسح کا ختم ہو جانا -
v موزہ اتار لینا -
v ان پڑھ کا کوئی آیت سیکھ لینا -
v ننگے کو اتنا کپڑا مل جانا جو ستر کو ڈھانپ لے -
v اشارے سے نماز پڑھنے والے کا رکوع اور سجدے پر قادر ہو جانا -
v صاحب ترتیب کو فوت شدہ نماز یاد آجانا-
نوٹ:صاحب ترتیب سے مراد وہ شخص ہے جس کی بلوغت کے بعد چھ نمازیں قضا نہ ہوں ،صاحب ترتیب کا حکم یہ ہے کہ وہ پہلے فوت شدہ نماز پڑھے پھر قضا نماز پڑھے -[5]
v ایسے آدمی کو خلیفہ بنانا جو امامت کی صلاحیت نہیں رکھتا-
v فجر کی نماز میں سورج کا طلوع ہو جانا -
v عیدین کی نماز میں زوال کا وقت داخل ہو جانا -
v جمعہ کی نماز میں عصر کا وقت داخل ہو جانا -
v زخم ٹھیک ہونے پر پٹی کا گر جانا -
v معذور کے عذر کا ختم ہو جانا -
v جان بوجھ کر یا دوسرے کے عمل سے بے وضو ہو جانا -
v بے ہوش ہو جانا -
v پاگل ہو جانا-
v جو آدمی بے وضو ہو گیا اس کے کسی ستر کا ننگا ہونا اگرچہ مجبوری سے ہو مثلاً عورت کا وضو کیلئے اپنے بازوں کو ننگا کرنا-
v وضو کے لیے جاتے یا آتے ہوئے قرأت کرنا -
نوٹ:اس سے وہ وضو ہے جو نماز کے دوران قہقہ وغیرہ لگانے کی صورت میں نماز ٹوٹ جانے کی صورت میں کیا جاتا ہے-
v بے وضو ہونے کی بعد بیداری کی حالت میں ایک رکن کی ادائیگی کے بعد ٹھہرے رہنا-
v قریب پڑے ہوئے پانی سے دوسرے کی طرف گزر جانا -
v بے وضو ہونے کے خیال میں مسجد سے نکل جانا
v غیر مسجد میں بے وضو ہونے کے گمان میں صفوں سے نکل جانا-
v یہ خیال کرتے ہوئے نماز سے پھر جانا کہ بے وضو ہے یا مسح کی مدت ختم ہو گئی ہے یا اس کے ذمے کوئی فوت شدہ نماز ہے یا اس پر نجاست لگی ہوئی ہے- اگرچہ مسجد سے نہ نکلے-
v غیر امام کو لقمہ دینا -
v اس نماز سے کسی دوسری نماز کی طرف منتقل ہونے کے لیے تکبیر کہنا -
نوٹ:اس وقت نماز فاسد ہوگی جب یہ تمام باتیں تشہد کی مقدار آخری قعدہ بیٹھنے سے پہلے پائی جائیں-
v تکبیر میں ہمزے کو کھینچنا بھی نماز کو فاسد کر دیتا ہے-
v جو کچھ یاد نہیں رہا اور پھر سے قرآن پاک سے دیکھ کر پڑھنا -
v ستر کے ننگا ہونے یا رکاوٹ بننے والی نجاست کے ساتھ ایک رکن ادا کرنا یا اتنی دیر ٹھہرنا مقتدی کا امام سے پہلے کوئی رکن ادا کرنا جس میں امام شریک نہیں ہوا -
v مسبوق کا سجدہ سہومیں امام کی پیروی کرنا -
نوٹ: مسبوق وہ ہے جو ایک رکعت کے بعد اما م کے ساتھ شامل ہو -
v قعدہ کرنے کے بعد اصلی سجدہ یاد آجائے تو اسے ادا کرنے کے بعد آخری قعدہ نہ لوٹانا -
v سونے کی حالت میں ادا کیے گئے رکن کو نہ لوٹانا -
v مسبوق کے امام کا آخری قعدہ کے بعد زور زور سے ہنسنا اور جان بوجھ کر بے وضو ہو جانا-
v دوسے زائد رکعتوں والی نماز میں دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر لینا -
v یہ خیال کرتےہوئے کہ وہ مسافر ہے یا یہ نماز جمعہ ہے یا تراویح ہے حالانکہ وہ عشاء کی نماز تھی یا وہ قریب کے زمانے میں مسلمان ہوا اور اس کے خیال میں فرض دو ہی رکعتیں ہیں- [6]
مکروہاتِ نماز:
ایسے امور جن کے بجالانے سے نماز باطل تو نہیں ہوتی لیکن مکروہ ہوجاتی ہے یعنی اس سے ثواب میں کمی ہوجاتی ہے – ’’مکروہ‘‘ لغوی معنی کے اعتبار سے ناپسندیدہ کو کہتے ہیں،فقہاء کرام نے مکروہ کو بنیادی طور پر دو اقسام میں تقسیم فرمایا ہے-مکروہ تنزیہی: اس کو کہتے ہیں جس میں ممانعت کے مقابلہ میں اجازت کے دلائل غالب اور قوی ہوتے ہیں، اس بنا پر وہ حرام کے مقابلہ میں حلال کے زیادہ قریب ہوتا ہے-
مکروہِ تحریمی:اس مکروہ کو کہتے ہیں جو اس کے برعکس ہوتاہے، یعنی اس میں ممانعت کے دلائل غالب اور قوی ہوتے ہیں اوراس وجہ سے وہ حرام کے زیادہ قریب ہوتا ہے-
پہلی قسم کا حکم یہ ہے کہ اس سے اجتناب بہتر اور باعث اجر و ثواب ہے، البتہ ارتکاب کی صورت میں گناہ نہیں ہوتا۔ اور دوسری قسم کا حکم یہ ہے کہ اس سے اجتناب ضروری ہے اور اس کا مرتکب گناہ کا مستحق ہوتا ہے۔
v جان بوجھ کرکسی واجب یا سنت کو چھوڑ دینا جیسے کپڑے اور بدن کے ساتھ کھیلنا-
v کنکریوں کو الٹ پلٹ کرنا البتہ سجدے کیلیے اک بار کر سکتا ہے-
v انگلیوں کو چٹخاتا اور انہیں ایک دوسرے میں داخل کرنا-
v کولہوں پر ہاتھ رکھنا-
v گردن گھُما کر جان بوجھ کر ادھر اُدھر دیکھنا-
v اقعاء کرنا یعنی سرین پر بیٹھ کر گھٹنوں کو کھڑا کرنا-
v بازوں کو بچھادینا-
v آستینیں چڑھا لینا-
v قمیص پہننے پر قادر ہونے کے باوجود صرف شلوار میں نماز پڑھنا-
v اشارے کے ساتھ سلام کا جواب دینا -
v بلا عذر چوکڑی مار کر بیٹھنا-
v بالوں کو گوندھنا -
v اعتجار یعنی سر کو رو مال سے باندھنا اور درمیان کا حصہ ننگا چھوڑ دینا-
v (رکوع یا سجدہ وغیرہ میں جاتے ہوئے) کپڑے کو لپیٹ لینا-
v سدل کرنایعنی رومال وغیرہ گلے میں ڈال کر دونوں طرفیں لٹکا دینا-
v کپڑے میں اس طرح داخل ہونا کہ ہاتھوں کو(تکبیر تحریمہ اور دوسرے ارکان کو ادا کرنے کے لئے) باہر نہ نکا ل سکے-
v کپڑے کو دائیں کندھے کے نیچے سے لے جا کر اس کے دونوں کنارےبائیں کندھے پر لٹکا دینا-
v غیرقیام کی حالت میں قرأت کرنا -
v نفل نماز میں پہلی رکعت کو لمبا کرنا اور باقی تمام نمازوں میں دوسری رکعت کو پہلی سے لمبا کرنا- (یعنی نفل نماز میں دوسری رکعت کو پہلی کی نسبت لمبا کرے جبکہ دوسری نمازوں میں پہلی رکعت کو دوسری کی نسبت لمبا کرے تو افضل ہے)-
v فرض نماز کی ایک رکعت میں کسی سورت کو دوبار (یا زیادہ بار) پڑھنا-
v پڑھی گئی سورت سے پچھلی سورت پڑھنا-
v دورکعتوں میں پڑھی جانے والی دو سورتوں کے درمیان ایک سورت کے ساتھ فصل کرنا - (مثلاً پہلی رکعت میں سورۃ الفیل کی تلاوت کی اور دوسری میں سورۃ الماعون کی تلاوت کی اور درمیان والی سورت چھوڑ دی)
v (دوران نماز)خوش بو ( وغیرہ)سونگھنا-
v ایک یا دو بار کپڑے یا پنکھے سے ہوا لینا (اگر زیادہ بار لے گا تو نماز ٹوٹ جائے گی کیونکہ یہ عمل کثیر بن جائے گا)-
v سجد ے وغیرہ میں ہاتھوں یا پاؤں کی انگلیوں کو قبلہ سے پھیر دینا-
v رکوع میں ہاتھوں کو گھٹنوں پر نہ رکھنا-
v (قصداً)جمائی لینا-
v آنکھوں کو بند رکھنا اور انہیں آسمان کی طرف اُٹھانا-
v انگڑائی لینا -
v عمل قلیل -
v جوں پکڑنا اور اسے مارنا-
v ناک اور منہ کو ڈھانپنا (بغیر عذر کے)-
v منہ میں کوئی چیز رکھنا جو مسنون قرارت میں رکاوٹ پیدا کرتی ہو-
v (بغیرضرورت کے) پگڑی کے کور (لپیٹ) پر سجدہ کرنا-
نوٹ:پگڑی یا عمامہ کہ لپیٹ اگر پیشانی پر تھی اور سجدہ میں پیشانی اور زمین کے درمیان حائل ہو گئی تو نماز مکروہ ہو گی لیکن اگر عمامہ کی لپیٹ سر کے برابر اس طرح تھی کہ سجدہ میں پیشانی زمین پر نہ لگے تو نماز نہ ہو گی-
v تصویر پر سجدہ کرنا-
v ناک میں کوئی عذر نہ ہونے کے باوجود صرف پیشانی پر سجدہ کرنا
v راستے، حمام، گزرگاہ، قبرستان اور دوسرے کی زمین میں اس کی مرضی کے بغیر نماز پڑھنا- نجاست کے قریب نماز پڑھنا-
v پیشاب، پاخانے یا ہوا کی شدت کے وقت نماز پڑھنا-
v اتنی نجاست کے ساتھ نماز پڑھنا جو مانع نہیں ہے- مگر جب نماز کے وقت یا جماعت کے نکلنے کا خوف ہو (تو فقہاء کرام نےپڑھنے کی اجازت دی ہے) ورنہ نجاست دور کرنا مستحب ہے-
v کام کاج کے کپڑوں میں نماز پڑھنا(یعنی ایسے کپڑے جن کو پہن کر بندہ بازار یا مجلس وغیرہ میں نہیں جاتا)-
v ننگے سر نماز پڑھنا جب کہ عاجزی کے طور پر ننگا نہ کیا ہو-
v کھانے کی موجودگی میں جب اس کی طرف طبیعت کا میلان ہو یا ایسے کام کے وقت نماز پڑھنا جو دل کو مشغول رکھتا ہو اور خشوع میں خلل ڈالتا ہوآیات اور تسبیح کو ہاتھ سے شمار کرنا -
v امام کا محراب میں یا ایسی جگہ اور زمین پر کھڑا ہونا جہاں وہ تنہا ہو-
v ایسی صف کے پیچھے کھڑا ہونا جس میں گنجائش ہو-
v تصویروں والے کپڑے پہننا -
v سر کے اوپر یا نیچے یا سامنے اور پہلو میں تصویر ہو، البتہ چھوٹی ہو یا سر کٹا ہوا ہو یا غیر ذی روح کی ہو تو کوئی حرج نہیں-
v نمازی کے سامنے تنور یا چولھا ہو جس میں چنگاریاں ہوں (تاکہ مجوسیوں کے ساتھ مشابہت لازم نہ آئے) یا سوئے ہوئے لوگ ہوں -
v نماز کے دوران پیشانی سے مٹی پو نچھنا جو نقصان نہیں دیتی-
v کسی سورت کو مقرر کر لینا کہ اس کے علاوہ نہیں پڑھے گا- البتہ آسانی کیلیے یاسیّدی رسول اللہ (ﷺ) کی قرأت سے تبرک حاصل کرنے کی خاطر ایسا کر سکتا ہے-
v ایسی جگہ میں ستر نہ رکھنا جہاں نمازی کے آگے سے (لوگوں کے) گزرنے کا گمان ہو- [7]
v اگر امام رکوع میں ہو اور اسے محسوس ہو کہ کوئی شخص آ رہا ہے اور اس نے رکوع کو لمبا کر دیا تاکہ آنے والا رکوع میں شامل ہو سکے- اگر وہ آنے والے شخص کو جانتا تھا تو مکروہ ہے- اگر وہ نہیں جانتا تھا تو کوئی حرج نہیں ہے ایک تسبیح یا دو تسبیح کی مقدار کے برابر لمبا کرنا-
v جلدی میں صف کے پیچھے ہی سے اللہ اکبر کہہ کر شامل ہو گیا پھر صف میں داخل ہونا -
v اٹھتے وقت ایک پاؤں آگے رکھنا-
v انسان کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ ہے جب اس کا چہرہ نماز ی کی طرف ہو-( اگر چہرہ اس کی طرف نہ ہو تو کوئی حرج نہیں)-
v امام کے پیچھے قرأت کرنا- [8]
نوٹ:فقہ حنفی کے مطابق امام کے پیچھے قرأت کرنا جائز نہیں کیونکہ شرح معانی الآثار میں سیّدی رسول اللہ (ﷺ) کا فرمان مبارک ہے :
’’ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ قِرَاءَةٌ لَهُ‘‘
’’امام کی قراءت مقتدی کی قراءت ہے‘‘-
v اس لیے جب امام رکوع میں چلاجائے اورمقتدی رکوع میں اس کے ساتھ شامل ہوجائے تو اس کی رکعت ہوجاتی ہے اگرچہ اس نے سورہ فاتحہ اور کوئی سورت کی تلاوت نہ کی ہو-
v الٹا کپڑا پہن کر یا اوڑھ کر نماز پڑھنا -
v سجدے میں یا رکوع میں بلا ضرورت تین تسبیح سے کم کہنا مگر تنگی وقت یا گاڑی چلے جانے کے خوف سے ہو تو کوئی حرج نہیں- اگر مقتدی تین تسبیحات نہ کہنے پایا تھا کہ امام نے سر اٹھا لیا تو امام کا ساتھ دے- [9]
جن چیزوں کے لئے نماز توڑنا جائز ہے:
v سانپ وغیرہ کو مارنے کیلیے جب اس سے ایذاء پہنچنے کا اندیشہ ہو-
v کوئی جانور بھاگ گیا اس کو پکڑنے کے لیے -
v بکریوں پر بھیڑیے کے حملہ کرنے کے خوف سے-
v اپنے یا پرائے کے ایک درہم کے نقصان کا خوف ہو مثلاً دودھ اُبل جائے گا یا گوشت، سبزی، روٹی وغیرہ جل جانے کا خوف ہو -
v ایک درہم کی کوئی چیز چور اٹھا لے بھاگا-
v پاخانہ یا پیشاب معلوم ہو، کپڑے یا بدن میں اتنی نجاست لگی دیکھی جو ما نع نماز نہ ہو یا اس کو کسی اجنبی عورت نے چھو دیا تو نماز توڑ دینا مستحب ہے- بشرط کہ وقت اور جماعت فوت نہ ہو اور پاخانہ یا پیشاب کی حاجت شدید معلوم ہونے میں تو جماعت کے فوت ہو جانے کا بھی خیال نہ کیا جائے گا البتہ وقت کے فوت ہونے کا لحاظ رکھا جائے گا -
v کوئی مصیبت زدہ فریاد کر رہا ہو اور وہ اسی نمازی کو پکار رہا ہو یا مطلقاً کسی شخص کو پکارتا ہو یا کوئی ڈوب رہا ہو یا آگ سے جل جائے گا یا اندھا راہ گیر کنویں میں گر جائے گا تو ان سب صورتوں میں نماز توڑ دینا واجب ہے جبکہ یہ اس کو بچانے پر قادر ہو-
v والدین اگر بلائیں اور وہ شخص فرض نماز پڑھ رہا ہو تو ان کو جواب دینا جائز نہیں اور اگر نفل نماز ہے اور ان کو معلوم ہے کہ نماز پڑھ رہا ہے تو ان کو جواب نہ دے اور اگر انہیں معلوم نہ ہو تو نماز توڑ دے اور جواب دے- [10]
متفرق مسائل:
v وتر کی تینوں رکعتوں میں مطلقاً قرأت فرض ہے اور ہر ایک میں بعد فاتحہ سورۃ ملانا واجب ہے- بہتر یہ ہے کہ پہلی میں ’’سبح اسم ربک یا انا انزلنا ‘‘،دوسری میں قل یا ایھا الکفرون اور تیسری میں قل ھو اللہ احد پڑھے اور کبھی کبھی اور سورتیں بھی پڑھ لے -[11]
v اگر دعائے قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں چلا گیا تو نہ قیام کی طرف لوٹے نہ رکوع میں دعائےقنوت پڑھے- اگر قیام کی طرف لوٹ آیا اور دعائےقنوت پڑھی اور رکوع نہ کیا تو نماز فاسد نہ ہوگی مگر گنہگار ہوگا - اگر صرف الحمد پڑھ کر رکوع میں چلا گیا تھا تو لوٹے اور سورت و قنوت پڑھے پھر رکوع کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے یوں ہی اگر الحمدللہ بھول گیا اور سورت پڑھ لی تھی تو لوٹے اور فاتحہ و سورت و قنوت پڑھ کر پھر رکوع کرے- [12]
v اگر مقتدی قنوت سے فارغ نہ ہوا تھا کہ امام رکوع میں چلا گیا تو مقتدی بھی امام کا ساتھ دے- اگر امام نے دعائے قنوت پڑھے بغیر رکوع کر دیا اور مقتدی نے ابھی کچھ نہ پڑھا تو مقتدی کو اگر رکوع فوت ہونے کا اندیشہ ہو جب تو رکوع کر دے ورنہ قنوت پڑھ کر رکوع میں جائے اور اس خاص دعا کی حاجت نہیں جو دعائے قنوت کے نام سے مشہور ہے بلکہ متن کوئی دعا جسے قنوت کہہ سکیں پڑھ دے(جیسے ’’ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار‘‘) - [13]
v وتر کی نماز قضا ہو گئی تو قضا پڑھنی واجب ہے اگرچہ کتنا ہی زمانہ ہو گیا ہو - قضا میں تکبیرِ قنوت کے لیے ہاتھ نہ اٹھائے جب لوگوں کے سامنے پڑھتا ہو- [14]
v دعائے قنوت آہستہ پڑھے امام ہو یا مقتدی یا منفرد، ادا ہو یا قضا، رمضان میں ہو یا اور دنوں میں - [15]
v فجر کی نماز قضا ہو گئی اور زوال سے پہلے قضا پڑھی تو سنتیں بھی پڑھے ورنہ نہ پڑھے- فجر کے علاوہ اور سنتیں قضا ہو گئیں تو ان کی قضا نہ کرے -[16]
v نماز میں قیام کو طویل کرنا کثرت رکعت سے افضل ہے یعنی جب کسی وقت معین تک نماز پڑھنا چاہے مثلا دو رکعت میں اتنا وقت صرف کر دینا چار رکعت پڑھنے سے افضل ہے- [17]
v نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے اور اگر یہ خیال ہو کہ گھر جا کر کاموں کی مشغولی کے سبب نوافل فوت ہو جائیں گے یا گھر میں جی نہ لگے گا اور خشوع کم ہو جائے گا تو مسجد ہی میں پڑھے- [18]
v سنت غیرمؤکدہ جس کی چار رکعتیں ہوں اور چار رکعت والے نوافل کے قعدہ اولی میں درود شریف اوردعابھی پڑھے اور تیسری رکعت میں سبحٰنک اللہم،اعوذ بھی پڑھے(جبکہ فرض ،سنت مؤکدہ یاوتر میں ’’عبدہ و رسولہ‘‘ تک پڑھے اگر یہ نمازیں اس طریقہ سے ادا کیں تو سجدہ سہو واجب ہو گا)-[19]
v نفل نماز قصدًا شروع کرنے سے واجب ہو جاتی ہے اگر توڑ دے گا تو قضا پڑھنی واجب ہوگی- [20]
v نماز میں ٹوپی گر پڑی تو اٹھا لینا افضل ہے جبکہ عمل کثیر کی حاجت نہ پڑے ورنہ نماز فاسد ہو جائے گی اور بار بار اٹھانی پڑے تو نہ اٹھائے اور نہ اٹھانے سے خشوع و خضوع مقصود ہو تو نہ اٹھانا افضل ہے- [21]
v تھیلی یا جیب میں تصویر چھپی ہوئی ہو تو نماز مکروہ نہیں- [22]
v جماعت قائم ہونے کے بعد کسی نفل کا شروع کرنا جائز نہیں سوائے فجر کی سنتوں کے کہ اگر یہ جانے کہ سنت پڑھنے کے بعد جماعت مل جائے گی اگرچہ قعدہ ہی میں شامل ہوگا تو سنت پڑھ لے مگر صف کے برابر پڑھنا جائز نہیں اور صف کے پیچھے پڑھنا بھی ممنوع ہے- اگر جماعت اندر کے حصہ میں ہوتی ہو تو مسجد کے باہر کے حصے میں سنتیں پڑھے اگر باہر کی حصے میں جماعت ہو تو اندر کے حصے میں سنتیں پڑھے- [23]
نوٹ :کھڑے ہو کر پڑھنے کی قدرت ہونے کے باوجود بھی بیٹھ کر نفل پڑھنا جائز ہے مگر کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے-
حرفِ آخر:
اللہ عزوجل نے قرآنِ پاک میں نماز قائم کرنے کا حکم ہے -امام راغبؒ مفردات میں ارشادفرماتے ہیں کہ کسی چیز کو قائم کرنا یہ ہے کہ اُسے اُس کا پورا حق دے دیا جائے- لہٰذا نماز اُس وقت قائم ہوسکے گی،جب اُسے تمام ظاہری وباطنی حقوق کے ساتھ ادا کیا جائے-لحاظ ہمیں چاہیے کہ ہم نماز کے ظاہر ی وباطنی احکامات کا خیال رکھیں تاکہ ہماری نماز معراج بن سکے -
٭٭٭
[1](عین الفقر، ایڈیشن، مارچ 2023، ص:48)
[2](سنن أبی داود، بَابُ الدَّفْنِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا)
[3](الھدایہ، كتاب الصلاة)
[4](ایضاً)
[5](درمختار ،بہارِ شریعت)
[6](نورالایضاح،ج:1،ص:68 تا 71)
[7](ایضاً، ص:71-73)
[8](الفتاوى الهندية، ج:1، ص:108-109)
[9](بہار شریعت، ج:1،ص:630)
[10](رد المحتار على الدر المختار،ج:1،ص:654)
[11](بہار شریعت، ج:1،ص:654)
[12](ایضاً)
[13](ایضاً)
[14](ایضاً)
[15]( رد المحتار على الدر المختار، ج:2،ص:7)
[16](ایضاً،ص:15)
[17]( ایضاً،ص:18)
[18]( ایضاً،ص:22)
[19]( ایضاً،ص:16)
[20]( ایضاً،ص:29)
[21]( ایضاً،ج:1، ص:641)
[22]( ایضاً،ص:648)
[23]( ایضاً،ج:1، ص:665)